ماتلی میں کمسن طالبعلم پر مبینہ تشدد،اہل خانہ کا استاد کی گرفتاری کا مطالبہ

ماتلی (رپورٹ اے۔ایم۔گدی) ماتلی کے نجی معراج پبلک اسکول میں پانچویں جماعت کے 12 سالہ طالبعلم پر استاد کے مبینہ بہیمانہ تشدد کا افسوسناک واقعہ پیش آیا ہے، جس کے نتیجے میں کمسن طالبعلم معید عباس کی حالت انتہائی تشویشناک ہوگئی اور اسے فوری طور پر علاج کے لیے کراچی کے ایک نجی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کی طبیعت مزید بگڑنے کی اطلاعات ہیں۔ واقعے پر بچے کے والد مظہر عباس میمن، چچا زوہیب عباس اور دیگر قریبی رشتہ داروں نے ماتلی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے شدید احتجاج کیا اور مبینہ طور پر تشدد میں ملوث استاد اذلان کشمیری کی فوری گرفتاری اور سخت قانونی کارروائی کا مطالبہ کیا۔ اہل خانہ نے الزام عائد کیا کہ نظامانی محلہ میں واقع نجی معراج پبلک اسکول کے استاد نے کمسن طالبعلم کو تشدد کا نشانہ بنایا، جس کے باعث اس کی حالت غیر ہوگئی اور اسے کراچی منتقل کرنا پڑا۔ انہوں نے ایس پی بدین سے مطالبہ کیا کہ واقعے کا فوری نوٹس لے کر مبینہ طور پر تشدد کرنے والے استاد اذلان کشمیری اور اسکول انتظامیہ کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے اور واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کروا کر ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ پریس کانفرنس کے دوران والدین نے بتایا کہ واقعے کے سلسلے میں ماتلی تھانے میں این سی درج کروا دی گئی ہے، تاہم انہوں نے اب تک ہونے والی کارروائی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مبینہ طور پر تشدد میں ملوث استاد کو فوری گرفتار کرکے قانونی کارروائی نہ کی گئی تو وہ کل نجی معراج پبلک اسکول کے سامنے اور ماتلی کے کلب چوک پر احتجاجی دھرنا دینے پر مجبور ہوں گے۔ واقعے نے تعلیمی اداروں میں بچوں کے تحفظ اور اساتذہ کے طرزِ عمل سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ اہل خانہ نے ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ تعلیمی حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ کمسن طالبعلم کو انصاف کی فراہمی اور تعلیمی اداروں میں بچوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔

مزید خبریں

Back to top button