ممکنہ بڑی جنگ کی تیاری،امریکی فوج نے اجتماعی قبریں کھودنےکی مشق کرلی

امریکی فوج کے مطابق تقریباً سات دہائیوں بعد اس نوعیت کی بڑے پیمانے پر تیاریوں میں سے ایک مشق کی گئی ہے، جس کا مقصد ممکنہ شدید جنگ میں بڑی تعداد میں ہلاکتوں کی صورت میں لاشوں کو محفوظ رکھنا، ان کی شناخت کرنا اور بعد ازاں میتیں اہل خانہ کے حوالے کرنے کے طریقہ کار کو جانچنا ہے۔
یہ مشق آپریشن ڈریگن کوویننٹ (Operation Dragon Covenant) کے دوسرے مرحلے کے تحت ہوئی۔ اس دوران فوجی انجینئرز نے بھاری بلڈوزروں کی مدد سے خندقیں تیار کیں اور ان میں فرضی انسانی باقیات رکھ کر جانچا کہ مٹی ڈالنے کے باوجود انہیں نقصان سے کیسے محفوظ رکھا جاسکتا ہے۔
بعد ازاں ان باقیات کو خندقوں سے نکال کر یہ بھی دیکھا گیا کہ فرانزک ماہرین مستقبل میں شناخت کے عمل کے لیے انہیں کس طرح محفوظ طریقے سے باہر نکال سکتے ہیں۔
امریکی فوج کے مطابق ایک معیاری عارضی تدفینی پلاٹ میں پانچ متوازی خندقیں بنائی جاسکتی ہیں، جن میں مجموعی طور پر تقریباً 100 لاشیں رکھنے کی گنجائش ہوتی ہے۔
حالیہ مشق میں ڈی 6 بلڈوزر کے ذریعے ایک خندق تیار کرنے میں اوسطاً ایک گھنٹہ 15 منٹ لگے، جس میں تقریباً 20 انسانی باقیات رکھنے کی گنجائش تھی۔
فوجی حکام کے تخمینے کے مطابق مناسب مشینری اور مسلسل آپریشن کی صورت میں انجینئرز کی ایک کمپنی 24 گھنٹوں کے دوران 2,400 تک انسانی باقیات کے لیے خندقیں تیار کرکے انہیں بند کرسکتی ہے۔



