ترکیہ نے اسرائیلی انتخابات میں مداخلت کے الزامات مسترد کر دیے، گمراہ کن مہم قرار دے دیا

استنبول(ویب ڈیسک) قطر کے بعد ترکیہ نے بھی اسرائیلی انتخابات میں مداخلت کے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد اور گمراہ کن مہم کا حصہ قرار دے دیا ہے۔

ترکیہ کے حکومتی سینٹر برائے کاؤنٹر ڈس انفارمیشن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں کہا ہے کہ بعض بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر گردش کرنے والے یہ دعوے کہ ترکیہ نے اسرائیلی انتخابات میں مداخلت کی، مکمل طور پر بے بنیاد ہیں۔

بیان میں کہا گیا کہ یہ الزامات عوامی رائے کو متاثر کرنے کے لیے چلائی جانے والی دانستہ گمراہ کن مہم کا حصہ ہیں۔ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ ایسی جھوٹی خبروں اور الزامات پر یقین نہ کریں، جن کا مقصد حقائق کو مسخ کرکے لوگوں کو گمراہ کرنا ہے۔

ترکیہ کی جانب سے یہ وضاحت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل کی داخلی سلامتی کی ایجنسی شن بیت کو ان الزامات کی تحقیقات سونپی گئی ہیں کہ ترکیہ اور قطر سے اسرائیل میں رقوم منتقل کی گئیں تاکہ عرب ووٹرز کے انتخابی فیصلوں پر اثر انداز ہوا جا سکے۔

واضح رہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو اور ان کے اتحادیوں کی جانب سے ترکیہ اور قطر پر اسرائیلی انتخابی عمل میں مداخلت کے الزامات عائد کیے گئے تھے، جنہیں دونوں ممالک مسترد کر چکے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button