ریٹائرڈ ملازمین کی میڈیکل سہولت کا معاملہ، وفاقی آئینی عدالت کا پی آئی اے سے جواب طلب

اسلام آباد (جانوڈاٹ پی کے) وفاقی آئینی عدالت نے پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کو ریٹائرڈ ملازمین کی طبی سہولتوں سے متعلق جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے ادارے کو سابق ملازمین کی خدمات اور انسانی ہمدردی کے پہلو کو مدنظر رکھنے کی ہدایت بھی کی۔
جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے پی آئی اے کے ریٹائرڈ ملازمین کو میڈیکل سہولتوں کی فراہمی سے متعلق کیس کی سماعت کی۔
دورانِ سماعت جسٹس حسن اظہر رضوی نے ریمارکس دیے کہ ادارے کو ماضی میں خدمات انجام دینے والے ملازمین کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔ پرانے ملازمین نے قومی ایئرلائن کے عروج کے دور میں اپنی خدمات پیش کیں، اس لیے ادارے کو انہیں نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔
جسٹس حسن رضوی نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ میڈیکل سہولتوں کے غلط استعمال نے اداروں کو نقصان پہنچایا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دھوکا دہی میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے، کیونکہ ماضی میں میڈیکل سہولت کے نام پر پرفیوم تک خریدے جانے کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔
سماعت کے دوران پی آئی اے کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ میڈیکل سہولت کے نظام کو منظم کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق پہلے سالانہ ڈھائی لاکھ روپے کی میڈیکل سہولت دستیاب تھی، جسے بڑھا کر پانچ لاکھ روپے سالانہ کر دیا گیا ہے۔
اس پر جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ معاملے کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر بھی دیکھا جانا چاہیے۔
عدالت نے پی آئی اے کو ریٹائرڈ ملازمین کی میڈیکل سہولتوں سے متعلق اپنا جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا۔



