پولیس چھ چھ سال گواہ پیش نہیں کرتی، پھر کہتے ہیں عدلیہ خراب ہے، چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ برہم

لاہور (جانوڈاٹ پی کے) چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عالیہ نیلم نے پولیس کی کارکردگی پر سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے جعلی چیک کے مقدمے میں سی پی او ملتان اور ڈی پی او مظفر گڑھ کو مکمل ریکارڈ سمیت کل طلب کر لیا۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے جعلی چیک کے مقدمے میں نامزد ملزم غلام دستگیر کی ایف آئی آر سے اخراج کی درخواست پر سماعت کی۔ دورانِ سماعت انہوں نے ریمارکس دیے کہ پانچ سال قبل مقدمہ درج ہوا، نہ ملزم گرفتار ہوا اور نہ ہی اس نے تفتیش میں شمولیت اختیار کی۔ پولیس چھ چھ سال تک گواہ پیش نہیں کرتی، لیکن پھر کہا جاتا ہے کہ عدلیہ خراب ہے۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ عدالتیں پولیس کو جرمانے کرتی ہیں، پولیس افسران کی تنخواہیں بھی بند کی جاتی ہیں، لیکن اس کے باوجود معاملات درست نہیں ہوتے۔ ان کا کہنا تھا کہ تھوڑی سی تنخواہ بند ہونے سے پولیس افسران کو کیا فرق پڑتا ہے؟ پولیس عدالتی احکامات پر عمل نہ کرے تو سینئر افسر کو طلب کرنا پڑتا ہے، مگر الزام عدلیہ پر آتا ہے۔

جسٹس عالیہ نیلم نے خدشہ ظاہر کیا کہ پولیس اہلکار سماعت کے بعد مدعی پر دباؤ ڈال کر مقدمہ واپس لینے پر مجبور کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مدعی پر دباؤ پولیس ڈالتی ہے، لیکن بدنام عدلیہ ہوتی ہے۔ ان کے مطابق عدالت سے نکلنے کے بعد مدعی کو ہراساں کرنے کا سلسلہ بھی شروع کر دیا جاتا ہے۔

چیف جسٹس نے ایف آئی آر کے اندراج کے طریقۂ کار پر بھی سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ کمپیوٹر پر ایف آئی آر درج ہونے کے باوجود پولیس اپنی مرضی کی چیزیں اس میں شامل کر دیتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جن مقدمات میں مدعی درخواست واپس لے لیتا ہے، ایسے کیسز پولیس افسران کو پسند آتے ہیں۔

سماعت کے دوران بتایا گیا کہ غلام دستگیر کے خلاف 20 لاکھ روپے مالیت کے چیک ڈس آنر ہونے کا مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ پولیس نے 2021 میں مقدمے کا چالان جمع کروا دیا، تاہم ملزم کو گرفتار نہیں کیا گیا۔ ملزم نے مقدمے کی ایف آئی آر خارج کرنے کے لیے عدالت سے رجوع کر رکھا ہے۔

عدالت نے معاملے کا مکمل ریکارڈ طلب کرتے ہوئے سی پی او ملتان اور ڈی پی او مظفر گڑھ کو کل پیش ہونے کی ہدایت کر دی۔

مزید خبریں

Back to top button