اسحاق ڈارکی آر فوراجلاس میں شرکت،پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور مصرکے وزرائے خارجہ سرجوڑیں گے

آر فور اجلاس کے بعد برطانیہ، فرانس اور جرمنی کی شرکت سے آر فور پلس ای تھری (R4+E3) فارمیٹ میں وزرائے خارجہ کا اجلاس بھی ہوگا۔ ان سات ممالک کے درمیان اس فارمیٹ میں یہ پہلا اجلاس ہوگا، جس میں اہم علاقائی پیش رفت، مشترکہ سیکیورٹی چیلنجز اور علاقائی امن و استحکام کے لیے سفارتی تعاون پر غور کیا جائے گا۔
رائٹرز کے مطابق ترک سفارتی ذرائع نے بتایا کہ اجلاس میں اسرائیل فلسطین تنازع، آبنائے ہرمز کی صورتحال، یمن میں جاری کشیدگی، روس یوکرین جنگ کے خاتمے کی کوششوں اور یورپی و علاقائی ممالک کے درمیان تعاون بڑھانے کے امکانات پر تبادلہ خیال متوقع ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کا سفارتی حل تلاش کرنے، آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری آمدورفت کی آزادی یقینی بنانے اور خطے میں سلامتی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے مشترکہ کوششوں پر زور دے سکتے ہیں۔
اجلاس میں یمن کے حوثی باغیوں کے حملوں کے تناظر میں سعودی عرب کی سلامتی کے لیے ترکیہ کی حمایت کا معاملہ بھی زیر بحث آنے کا امکان ہے۔ یہ پیش رفت پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب کے درمیان مکہ میں طے پانے والے مشترکہ دفاعی معاہدے کے تناظر میں اہمیت رکھتی ہے۔
حاقان فیدان اپنے ہم منصبوں کو یوکرین جنگ کے اثرات کو بحیرہ اسود تک پھیلنے سے روکنے کے لیے ترکیہ کی کوششوں سے بھی آگاہ کریں گے۔
دورے کے دوران اسحاق ڈار اپنے ہم منصبوں سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔ پاکستان کی شرکت علاقائی تعاون، تعمیری سفارت کاری اور تنازعات کے پُرامن حل کے لیے اسلام آباد کے عزم کی عکاسی کرتی ہے۔



