کابل میں چائے پی کردہشتگردوں کو چھوڑنا بڑی غلطی تھی،اسحاق ڈار

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے ملک میں دہشتگردی کی دوبارہ لہر اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے جنگجوؤں کی واپسی سے متعلق ماضی کے فیصلوں پر سوالات اٹھائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان فیصلوں کی بھاری قیمت پوری قوم نے ادا کی ہے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ سرحد کھول کر ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کو پاکستان واپس آنے کا موقع دینا غلط فیصلہ تھا۔ دہشتگردوں کو کس خوشی میں رہا کیا گیا اور ملک کو بار بار ایسی غلطیوں کا سامنا کیوں کرنا پڑا؟ ان کے مطابق دہشتگردوں کی واپسی کے بعد ملک میں دوبارہ بدامنی اور دہشتگردی کے مسائل پیدا ہوئے۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ جن لوگوں نے ایسے فیصلے کیے، انہیں دہشتگردی کی دوبارہ واپسی کی ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ سانحہ آرمی پبلک اسکول کے بعد آل پارٹیز کانفرنس منعقد ہوئی اور نیشنل ایکشن پلان تشکیل دیا گیا تھا۔
انہوں نے کہا کہ اس کے بعد آپریشن ضربِ عضب شروع کیا گیا، دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں کی گئیں اور ان کا ملک بھر میں تعاقب کیا گیا۔ ان اقدامات کے نتیجے میں دہشتگردوں کو علاقے چھوڑنے پڑے، تاہم ماضی کے فیصلوں کے باعث دہشتگردی نے دوبارہ سر اٹھایا۔
نائب وزیراعظم کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کا معاملہ اب محض سیاسی مفاہمت تک محدود نہیں رہا بلکہ صورتحال اس سے آگے نکل چکی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر اب بھی دہشتگردی کے خلاف مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے مناسب وقت کون سا ہوگا؟
اسحاق ڈار نے یہ بھی کہا کہ سینیٹ اور قومی اسمبلی نے گورنر راج اور ایمرجنسی کی منظوری دی، تاہم دہشتگردوں کی واپسی اور رہائی سے متعلق ماضی کے فیصلوں کا جواب دینا ضروری ہے۔



