ماتلی:آٹا170 روپے کلو تک پہنچ گیا،مہنگائی سے محنت کش اور متوسط طبقے کے گھرانے متاثر

ماتلی (رپورٹ  اے ایم گدی) سندھ کے مختلف شہروں سے آٹے کی قیمتیں 160 سے 170 روپے فی کلو تک پہنچنے کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں، جبکہ بعض مارکیٹوں میں نرخوں میں مزید فرق بھی سامنے آ رہا ہے۔ چینی کی قیمت 135 روپے فی کلو بتائی جا رہی ہے، جس کے باعث بعض مقامات پر آٹا چینی سے بھی مہنگا فروخت ہو رہا ہے۔ فلور ملوں میں ڈبل اسپیشل آٹے کا 40 کلو تھیلا 6 ہزار 400 روپے ایکس مل ریٹ پر فروخت ہونے کی اطلاعات کے درمیان محنت کش اور متوسط طبقے کے خاندانوں کے لیے روزمرہ اخراجات پورے کرنا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ گندم کی اوپن مارکیٹ میں قیمتیں مختلف اوقات اور مقامات پر مختلف رہی ہیں، جبکہ سرکاری خریداری کے نرخوں اور آئندہ سیزن میں گندم کی خریداری سے متعلق بیانات نے بھی مارکیٹ کی صورتِ حال کو اہمیت دی ہے۔ گندم کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کے اثرات آٹے کے علاوہ ڈبل روٹی، بسکٹ، پاپے، ٹوسٹ اور دیگر بیکری مصنوعات کی تیاری کے اخراجات پر بھی پڑ سکتے ہیں۔ ایک ایسے خاندان میں جہاں روزانہ 4 سے 5 کلو آٹا استعمال ہوتا ہو، فی کلو 30 روپے اضافے کی صورت میں روزانہ 120 سے 150 روپے اور ماہانہ 3 ہزار 600 سے 4 ہزار 500 روپے تک اضافی خرچ ہو سکتا ہے۔ اس صورتِ حال میں ضروری ہے کہ گندم کی سرکاری خریداری، اوپن مارکیٹ کے نرخوں، فلور ملوں کی لاگت اور پرچون قیمتوں کا جائزہ لے کر اضافے کی وجوہات واضح کی جائیں۔ عوامی حلقوں نے متعلقہ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ آٹے کی قیمتوں پر مؤثر نگرانی اور عام صارفین کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔

مزید خبریں

Back to top button