تھرپارکرمیں سرکاری گندم میں مبینہ خردبرد،سابق فوڈ سپروائزر کرشن لال برطرف،43کروڑ68 لاکھ روپے وصولی کا حکم

تھرپارکر(رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) سندھ حکومت کے محکمہ خوراک نے ضلع تھرپارکر کے سابق فوڈ سپروائزر کرشن لال کے خلاف سرکاری گندم کے ذخیرے میں مبینہ بے ضابطگیوں اور قومی خزانے کو بھاری مالی نقصان پہنچانے کے الزامات پر کارروائی کرتے ہوئے انہیں ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔ جاری کردہ سرکاری حکم نامے کے مطابق ان سے مجموعی طور پر 43 کروڑ 68 لاکھ 97 ہزار 856 روپے وصول کرنے کا حکم بھی دیا گیا ہے۔ سندھ حکومت کے محکمہ خوراک کے سیکریٹری غلام عباس نیچ کے دستخط سے جاری ہونے والے حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ انکوائری رپورٹ، بینک ریکارڈ اور متعلقہ دستاویزات کی جانچ پڑتال کے بعد کرشن لال کے خلاف سرکاری گندم کے ذخیرے میں بے ضابطگیوں کے الزامات ثابت ہونے پر انہیں بڑی سزا کے طور پر ملازمت سے برطرف کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ کرشن لال BS-09 کے فوڈ سپروائزر اور میرپورخاص فوڈ ریجن کے پی آر سی مٹھی کے انچارج کے طور پر فرائض انجام دے رہے تھے۔حکم نامے کے مطابق فروری اور مارچ 2024 کے دوران فصل 2022-23 کی سرکاری گندم میں سے مجموعی طور پر 10 ہزار 500 میٹرک ٹن گندم مبینہ طور پر غیر قانونی طریقے سے جاری کی گئی۔ اس میں تھر ریلیف فلور ملز کے نام پر 7 ہزار 500 بوریاں جبکہ مٹھی کی مختلف آٹا چکیوں کے نام پر 3 ہزار بوریاں جاری کرنے کا ذکر کیا گیا ہے۔ دستاویزات کے مطابق اس عمل کے دوران مطلوبہ تفصیلات اور متعلقہ پالیسی پر عمل درآمد نہیں کیا گیا، جس کے نتیجے میں سرکاری گندم کے ذخیرے میں بے ضابطگیاں سامنے آئیں۔انکوائری رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ بینک میں رقم جمع کرانے کے حوالے سے پیش کیے گئے بعض چالانوں کی تصدیق کے دوران نیشنل بینک آف پاکستان، مٹھی برانچ کے ریکارڈ سے مبینہ طور پر انکشاف ہوا کہ یہ چالان اصلی نہیں تھے اور متعلقہ رقم سرکاری اکاؤنٹ میں جمع نہیں کرائی گئی تھی۔ حکم نامے میں اس مد میں سرکاری خزانے کو ہونے والے بنیادی نقصان کا تخمینہ 11 کروڑ 55 لاکھ روپے لگایا گیا ہے۔محکمہ خوراک کے حکم نامے کے مطابق متعلقہ افسر پر گندم کے ذخیرے کی دیکھ بھال اور حساب کتاب میں سنگین غفلت، ریکارڈ میں مبینہ ردوبدل اور سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے کی ذمہ داری کے الزامات بھی عائد کیے گئے۔ حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ افسر کو شوکاز نوٹس اور آخری شوکاز نوٹس جاری کیے گئے تھے، جبکہ انکوائری کمیٹی کے سامنے پیش کردہ وضاحتوں اور متعلقہ ریکارڈ کا جائزہ لینے کے بعد محکمہ نے کارروائی کی۔ حکم نامے میں ریکوری کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 29 کروڑ 31 لاکھ 24 ہزار 605 روپے بنیادی واجبات جبکہ 14 کروڑ 37 لاکھ 73 ہزار 251 روپے مارک اپ کی مد میں شامل ہیں۔ اس طرح مجموعی طور پر 43 کروڑ 68 لاکھ 97 ہزار 856 روپے کی رقم وصول کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ سندھ حکومت کے محکمہ خوراک نے ہدایت کی ہے کہ مذکورہ رقم سندھ لینڈ ریونیو ایکٹ 1967 کے تحت زمین کے محصول کے بقایاجات کی طرح وصول کی جائے۔ اس سلسلے میں ڈائریکٹر فوڈ سندھ کو بورڈ آف ریونیو سے رابطہ کرکے ریکوری کی کارروائی آگے بڑھانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ معاملہ اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ (ACE) سندھ کو بھی بھیجنے کا حکم دیا گیا ہے تاکہ مبینہ بدعنوانی، سرکاری فنڈز کے نقصان اور متعلقہ جرائم کے حوالے سے قانونی کارروائی اور رقم کی وصولی کے لیے اقدامات کیے جا سکیں۔ متعلقہ ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ کو مزید ہدایت کی گئی ہے کہ حکم نامہ جاری ہونے کے 30 دن کے اندر مجاز عدالت میں سول دعویٰ دائر کرکے سرکاری رقم کی وصولی کی کارروائی بھی شروع کی جائے۔ سرکاری حکم نامے کی نقول ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ سندھ، ڈائریکٹر فوڈ سندھ، ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ میرپورخاص، ڈسٹرکٹ اکاؤنٹس آفیسر تھرپارکر اور دیگر متعلقہ حکام کو ضروری کارروائی کے لیے ارسال کر دی گئی ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button