سینیٹ،قومی اسمبلی میں خیبرپختونخوا میں گورنر راج کی منظوری،اپوزیشن کے احتجاج اور نعروں کے باوجود قرارداد منظور

ایوان میں خیبرپختونخوا کی صورتحال اور وہاں گورنر راج کے نفاذ کے معاملے پر تفصیلی بحث ہوئی۔ حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے اپنے اپنے مؤقف کا اظہار کیا، جبکہ اپوزیشن کی جانب سے قرارداد کی مخالفت کی گئی۔ کارروائی کے دوران احتجاج اور نعرے بازی بھی جاری رہی، تاہم اسپیکر کی زیرصدارت اجلاس میں قرارداد کو کثرتِ رائے سے منظور کرلیا گیا۔
وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے گورنر راج سے متعلق قرارداد ایوان میں پیش کی۔ قرارداد کی منظوری کے موقع پر حکومتی ارکان نے اس کی حمایت کی، جبکہ اپوزیشن ارکان نے مخالفت کرتے ہوئے اپنے تحفظات کا اظہار کیا۔
وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے ایوان میں مؤقف اختیار کیا کہ خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات کے حوالے سے صوبائی حکومت کا طرزِ عمل قومی سلامتی کے لیے خطرہ بن رہا تھا۔ ان کے مطابق وفاقی کابینہ میں اس معاملے پر طویل مشاورت کے بعد ہنگامی اقدامات کی سفارش کی گئی۔
قومی اسمبلی میں اس معاملے پر ہونے والی بحث کے دوران حکومتی ارکان نے دہشت گردی کے خلاف وفاق اور صوبے کے درمیان مؤثر تعاون کی ضرورت پر زور دیا، جبکہ اپوزیشن نے منتخب صوبائی حکومت کے اختیارات معطل کرنے پر اعتراضات اٹھائے۔
قومی اسمبلی کا اجلاس جمعۃالمبارک دن گیارہ بجے تک کیلئے ملتوی کردیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ صدر مملکت آصف علی زرداری نے 11 اکتوبر کو خیبرپختونخوا میں ایمرجنسی اور گورنر راج نافذ کیا تھا۔ وفاقی حکومت نے اب پارلیمان سے اس اقدام کی آئینی توثیق حاصل کرنے کے لیے قومی اسمبلی میں قرارداد پیش کی ہے۔



