ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ کی زیر صدارت اہم اجلاس، عطائی ڈاکٹروں اور غیر قانونی کلینکس کیخلاف بھرپور کارروائی کا فیصلہ

ٹھٹھہ ( جاوید لطیف میمن )ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ سرمد علی بھاگت کی زیر صدارت اہم اجلاس، عطائی ڈاکٹروں اور غیر قانونی کلینکس کے خلاف بھرپور کارروائی کا فیصلہ، ضلع بھر میں آپریشن شروع کرنے کا حکم

ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ سرمد علی بھاگت کا عطائی ڈاکٹروں اور غیر قانونی کلینکس کے خلاف کارروائی کرنے کے متعلق اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کے ریجنل ہیڈ ڈاکٹر خالد حسین لغاری کی سربراہی میں ڈاکٹر یاسر امام اور دیگر افسران پر مشتمل ٹیم نے شرکت کی.

اجلاس میں ضلع بھر میں عطائی ڈاکٹروں کے خلاف کارروائی، غیر قانونی کلینکس کے خاتمے اور عوام کو معیاری طبی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے تبادلۂ خیال کیا گیا۔

ڈپٹی کمشنر ٹھٹھہ سرمد علی بھاگت نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی کہ ضلع بھر میں عطائی ڈاکٹروں کے خلاف جلد بھرپور آپریشن شروع کیا جائے اور انسانی جانوں سے کھیلنے والے عناصر کے خلاف قانون کے مطابق سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

انہوں نے کہا کہ غیر مستند افراد کی جانب سے علاج معالجے کا عمل عوام کی صحت اور زندگیوں کے لیے سنگین خطرہ ہے، جسے کسی صورت نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ عوام کی قیمتی جانوں کا تحفظ ہماری اولین ذمہ داری ہے، انسانی صحت سے کھیلنے اور بغیر مطلوبہ قابلیت و اجازت کے علاج معالجہ کرنے والوں کے خلاف کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داریاں مؤثر انداز میں ادا کریں اور عطائی ڈاکٹروں کی نشاندہی کرکے ان کے خلاف فوری کارروائی یقینی بنائیں۔

انہوں نے مزید ہدایت کی کہ غیر قانونی طور پر چلنے والی کلینکس کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے انہیں سیل کیا جائے اور عطائی ڈاکٹروں کو گرفتار کیا جائے –

سندھ ہیلتھ کیئر کمیشن کی ٹیم نے ڈپٹی کمشنر کو عطائی ڈاکٹروں کے خلاف جاری اقدامات اور آئندہ کے لائحہ عمل سے آگاہ کیا۔

اس موقع پر ضلع ٹھٹھہ میں غیر مستند طبی پریکٹس کے خاتمے اور شہریوں کو محفوظ طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے مشترکہ کوششیں تیز کرنے پر زور دیا گیا۔

مزید خبریں

Back to top button