حافظ نعیم الرحمان کا مفت تعلیم کے حق میں تحریک چلانے کا اعلان، حکومت سے سوال اٹھا دیے

 پشاور (جانو ڈاٹ پی کے) امیر جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمان نے ملک میں مفت اور معیاری تعلیم کے حق میں تحریک شروع کرنے کا اعلان کردیا۔ ان کا کہنا ہے کہ مہنگائی، بجلی کے بھاری بلوں اور پٹرول کی بڑھتی قیمتوں نے عوام کی مشکلات میں اضافہ کردیا ہے، جبکہ بھاری ٹیکسز وصول کرنے کے باوجود حکومت بنیادی سہولیات فراہم کرنے میں ناکام ہے۔

پشاور پریس کلب میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ پٹرول لیوی کے خلاف تحریک شروع کرنے کے بعد اب تعلیم کے حق کے لیے بھی تحریک چلائی جائے گی۔ ان کے مطابق معیاری اور مفت تعلیم ہر پاکستانی بچے کا بنیادی حق ہے، لیکن ملک میں تعلیم کے شعبے کے ساتھ مذاق کیا جا رہا ہے۔

امیر جماعت اسلامی نے کہا کہ جماعت اسلامی کا بنو قابل پروگرام نوجوانوں کو جدید تقاضوں کے مطابق تعلیم اور تربیت فراہم کرنے کے لیے شروع کیا گیا ہے۔ ان کے بقول ملک بھر، بالخصوص خیبرپختونخوا میں نوجوانوں کی تربیت کے مختلف پروگرام جاری ہیں، جبکہ 17 لاکھ سے زائد بچے 100 فیصد اسکالرشپ پر تربیت حاصل کر رہے ہیں۔

حافظ نعیم الرحمان نے سوال اٹھایا کہ اگر جماعت اسلامی بڑے پیمانے پر تعلیمی اور تربیتی پروگرام چلا سکتی ہے تو حکومت ایسا کیوں نہیں کرسکتی؟ انہوں نے تعلیمی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا میں 50 لاکھ، پنجاب میں ایک کروڑ 18 لاکھ سے زائد اور سندھ میں 70 لاکھ سے زائد بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔

انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب کے بیانات پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ان کی گفتگو سے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے پورا پاکستان فتح کرلیا گیا ہو، حالانکہ تعلیم سمیت عوام کے بنیادی مسائل اب بھی موجود ہیں۔

پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں پر بات کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمان نے کہا کہ عوام بھاری بلوں اور پٹرول کی قیمتوں سے پریشان ہیں۔ ان کے مطابق پٹرول کے ہر لیٹر پر 135 روپے ٹیکس وصول کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے حکومتی پٹرول لیوی پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے ’’پٹرول بھتہ‘‘ قرار دیا۔

غزہ کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی نے دعویٰ کیا کہ وہاں 89 ہزار سے زائد افراد شہید ہوچکے ہیں اور غزہ کے لیے 10 ارب روپے سے زائد کے فنڈز پہنچائے جاچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی غزہ کے طلبہ کو میڈیکل سمیت مختلف شعبوں میں تعلیم فراہم کرنے کے لیے بھی کام کر رہی ہے۔

مزید خبریں

Back to top button