ایران پر3روزہ شدید حملوں کامنصوبہ تیار،ٹرمپ کے سامنے میزائل اورتوانائی تنصیبات نشانے پر

واشنگٹن (جانو ڈاٹ پی کے) امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکی فوج ایران کے خلاف تقریباً تین روزہ شدید حملوں کے منصوبے پر کام کر رہی ہے، تاہم صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تاحال نئے حملوں کی منظوری نہیں دی۔
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق مجوزہ کارروائی میں ایران کے میزائل اور ڈرون ذخائر، توانائی کی تنصیبات اور پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈ مراکز کو نشانہ بنانے کے آپشنز زیرِ غور ہیں۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ منصوبے کا مقصد مختصر وقت میں ایران کی فوجی صلاحیتوں کو نقصان پہنچانا ہے۔
اخبار کے مطابق امریکی قومی سلامتی کے حکام گزشتہ چند ماہ کے دوران ایران یا یمن میں حوثی ملیشیا کے خلاف بڑے فوجی آپریشنز کی پانچ تجاویز صدر ٹرمپ کے سامنے پیش کر چکے ہیں، تاہم انہوں نے ہر بار ان تجاویز کو مسترد کیا۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ایران نے جنگ کے دوران متاثر ہونے والے اپنے میزائل اور ڈرون نظام کو دوبارہ مضبوط کیا ہے، جبکہ خطے میں امریکی فوجی اڈوں کو ایرانی حملوں سے محفوظ رکھنا بھی واشنگٹن کے لیے ایک چیلنج بنتا جا رہا ہے۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق ستمبر سے اب تک ایران کی جانب سے 13 بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم اس عرصے میں امریکا کی جانب سے ان واقعات پر کسی ردعمل کا ذکر بھی رپورٹ میں کیا گیا ہے۔
یہ منصوبہ بندی امریکا کی جانب سے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کے مختلف آپشنز پر غور کی عکاسی کرتی ہے، تاہم منصوبہ تیار ہونا اس بات کی تصدیق نہیں کہ صدر ٹرمپ نے حملوں کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے۔



