سندھ میں اسکول بجٹ کی تحقیقات کا نیا طریقۂ کار، اسکول سربراہان کو براہِ راست طلب کرنے پر پابندی

کراچی (جانو ڈاٹ پی کے) سندھ میں اسکول اسپیسفک بجٹ (SSB) میں مبینہ خرد برد اور سرکاری فنڈز کے غلط استعمال سے متعلق شکایات کی تحقیقات کے لیے نیا طریقۂ کار وضع کر دیا گیا ہے، جس کے تحت ابتدائی مرحلے میں اسکول سربراہان کو براہِ راست طلب کرنے اور اسکولوں سے ریکارڈ حاصل کرنے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

محکمہ اسکول ایجوکیشن سندھ کی درخواست پر محکمہ انکوائریز اینڈ اینٹی کرپشن سندھ نے اپنے فیلڈ دفاتر کے لیے نئی دفتری ہدایات جاری کر دی ہیں۔ ان ہدایات کے مطابق اسکول اسپیسفک بجٹ میں مبینہ بے ضابطگیوں، خرد برد یا سرکاری فنڈز کے غلط استعمال سے متعلق شکایات ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن سندھ کے دفتر کے ذریعے محکمہ اسکول ایجوکیشن کو بھجوائی جائیں گی۔
نئے طریقۂ کار کے تحت فیلڈ دفاتر ابتدائی مرحلے میں اسکولوں میں براہِ راست انکوائری کرنے، نوٹس جاری کرنے، اسکول سربراہان کو ذاتی حاضری کے لیے طلب کرنے یا ریکارڈ طلب کرنے کے مجاز نہیں ہوں گے۔ ایس ایس بی سے متعلق آئندہ کارروائی ڈائریکٹر جنرل اینٹی کرپشن سندھ کی ہدایات کے مطابق کی جائے گی۔
ہدایات میں واضح کیا گیا ہے کہ شکایات میں الزامات کی تفصیل، اسکول کا نام، متعلقہ مالی سال، رقم اور دستیاب دستاویزی شواہد فراہم کرنا ضروری ہوگا، تاکہ معاملے کی جانچ پڑتال مؤثر انداز میں کی جا سکے۔
نئے طریقۂ کار کا مقصد اسکولوں کے انتظامی امور اور جائز اخراجات متاثر کیے بغیر شکایات کی مربوط تحقیقات کو یقینی بنانا ہے۔ حکام نے محکمہ انکوائریز اینڈ اینٹی کرپشن سندھ کے تمام متعلقہ فیلڈ دفاتر کو ہدایات پر سختی سے عمل درآمد کرنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ احتساب اور قانون کے مطابق کارروائی کا عمل برقرار رہے گا۔



