نانا پاٹیکر کے انتقال کے بعد تنوشری دتہ کی حمایت میں سونا موہاپاترا سامنے آگئیں

ممبئی(جانوڈاٹ پی کے)بھارتی گلوکارہ سونا موہاپاترا نے معروف اداکار نانا پاٹیکر کی موت کے بعد اداکارہ تنوشری دتہ کو تنقید کا نشانہ بنانے والوں کو آڑے ہاتھوں لے لیا۔

سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں گلوکارہ سونا موہاپاترا نے کہا کہ کسی فنکار کی موت پر سوگ منانا الگ بات ہے، لیکن جنسی ہراسانی کے بارے میں آواز اٹھانے والی خاتون کو خاموش رہنے پر مجبور کرنا منافقت ہے۔

سونا موہاپاترا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس اور انسٹاگرام پر جاری ویڈیو میں تنوشری دتہ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ نانا پاٹیکر کے انتقال کے بعد لوگ ان کی فنی خدمات کو یاد کر رہے ہیں، جو قابلِ فہم ہے، لیکن تنوشری کو نشانہ بنانا افسوس ناک ہے۔

سونا موہاپاترا نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ موت کے بعد احترام کا حق زندہ لوگوں کو بھی حاصل ہے۔ کسی اداکار کی موت پر سوگ منانا ایک بات ہے، لیکن اپنے ساتھ پیش آنے والے صدمے کے بارے میں بات کرنے والی خاتون سے خاموش رہنے کا مطالبہ کرنا بالکل دوسری بات ہے۔

انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا موت کسی کی زندگی کے ناخوشگوار پہلوؤں کو مٹا دیتی ہے اور کیا عمر رسیدگی یا موت کسی کو تنقید سے بالاتر بنا دیتی ہے؟

سونا موہاپاترا نے کہا کہ تنوشری دتہ نے نانا پاٹیکر کے خلاف جنسی ہراسانی کے الزامات کے بارے میں آواز اٹھائی تھی، جس کے بعد انہیں طویل جدوجہد، عوامی تضحیک اور پیشہ ورانہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ان کے مطابق اب تنوشری سے یہ توقع کرنا کہ وہ اپنا تجربہ بھلا کر دوسروں کی توقعات کے مطابق سوگ منائیں، غیر منصفانہ ہے۔

انہوں نے خواتین کی جانب سے بھی تنوشری پر تنقید کیے جانے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کیا کسی دوسری عورت کو ذلیل کرنا سماجی بحث میں حصہ لینے کا طریقہ ہے؟

سونا موہاپاترا کا کہنا تھا کہ کسی فنکار کے کام کو سراہا جا سکتا ہے، اس کی موت پر افسوس کیا جا سکتا ہے اور اس کے اہلِ خانہ کے ساتھ ہمدردی بھی کی جا سکتی ہے، لیکن اس کے لیے کسی خاتون کو اپنی زندگی کے تجربات اور اپنی بیان کردہ تاریخ بدلنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔

گلوکارہ نے ان سوشل میڈیا صارفین کو بھی جواب دیا جن کا کہنا تھا کہ نانا پاٹیکر اپنی آمدنی کا بڑا حصہ کسانوں اور غریبوں کی مدد کے لیے عطیہ کرتے تھے، اس لیے ان پر تنقید نہیں ہونی چاہیے۔

سونا موہاپاترا نے سوال اٹھایا کہ فلاحی کام کسی شخص کے مبینہ غلط طرزِ عمل پر پردہ کیسے ڈال سکتے ہیں؟ انہوں نے برطانوی شخصیت جمی سیویل کی مثال بھی دی اور کہا کہ کسی کے خیراتی کاموں کو اس کے خلاف سامنے آنے والے الزامات سے الگ رکھ کر دیکھنا چاہیے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نانا پاٹیکر کو صاف گوئی اور بے باکی کے لیے سراہا جاتا تھا، لیکن خواتین کے اسی طرح کے رویے کو اکثر بدتمیزی قرار دیا جاتا ہے۔

سونا موہاپاترا نے کہا کہ تنوشری دتہ کو اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعات بیان کرنے کا حق حاصل ہے اور اگر کسی کی ہمدردی کا تقاضا یہ ہو کہ ایک آواز اٹھانے والی خاتون کو ذلیل کیا جائے تو یہ ہمدردی نہیں بلکہ منافقت ہے۔

خیال رہے کہ نانا پاٹیکر 8 اکتوبر کو 75 برس کی عمر میں گوا میں دل کا دورہ پڑنے سے چل بسے۔ ان کی موت کے بعد تنوشری دتہ کو اس بیان پر تنقید کا سامنا کرنا پڑا جس میں انہوں نے ان کے لیے ’ایول ڈیڈ‘ کے الفاظ استعمال کیے تھے۔

تنوشری نے ایک ویڈیو میں یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ وہ ایسے شخص کو معاف کیوں کریں جس نے ان سے معافی نہیں مانگی اور اپنی غلطی تسلیم نہیں کی۔

تنوشری دتہ نے 2008ء کی فلم ’ہارن اوکے پلیز‘ کے سیٹ پر نانا پاٹیکر پر جنسی ہراسانی کے الزامات عائد کیے تھے، جسے نانا نے سختی سے مسترد کر دیا تھا۔

پولیس نے 2019ء میں عدم ثبوت کی بنیاد پر اور 2025ء میں ممبئی کی عدالت نے قانونی میعاد ختم ہونے پر یہ کیس خارج کردیا تھا۔

مزید خبریں

Back to top button