پنگریو: گرلز ہائی اسکول کی ہیڈ مسٹریس کی ہراسانی اور دھمکیوں کی شکایت، محکمہ تعلیم سے کارروائی کا مطالبہ

بدین (رپورٹ مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ/ پی کے)پنگریو کے گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول کی ہیڈ مسٹریس نے محکمہ تعلیم کے افسران سے اسکول کے عملے کی جانب سے مبینہ ہراسانی، دھمکیوں اور غیر ضروری دباؤ کا نوٹس لیتے ہوئے فوری محکمانہ کارروائی کا مطالبہ کیا ہے14 ستمبر 2026 کو ڈسٹرکٹ ایجوکیشن آفیسر، ایلیمنٹری، سیکنڈری اینڈ ہائر سیکنڈری، بدین کو ارسال کردہ تحریری درخواست میں ہیڈ مسٹریس نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ گورنمنٹ بوائز ہائر سیکنڈری اسکول پنگریو کی فرسٹ ایئر اور انٹرمیڈیٹ کی طالبات کو ان کی تعیناتی سے قبل غیر رسمی طور پر گرلز ہائی اسکول منتقل کیا گیا تھا درخواست کے مطابق گورنمنٹ گرلز ہائی اسکول پنگریو میں صرف چھٹی سے دسویں جماعت تک تعلیم کی سہولت موجود ہے، جبکہ فرسٹ ایئر اور انٹرمیڈیٹ کی کلاسوں کے لیے مطلوبہ کمرے، متعلقہ مضامین کے ماہر اساتذہ اور محکمانہ اجازت دستیاب نہیں۔ ہیڈ مسٹریس کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس معاملے کو محکمہ تعلیم کے نوٹس میں لاتے ہوئے طالبات کی کلاسیں متعلقہ بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جاری رکھنے کی تجویز دی تھی، جس کے بعد وہاں کلاسوں کا انتظام کیا گیا ہیڈ مسٹریس نے اپنی درخواست میں الزام عائد کیا ہے کہ اس معاملے کے بعد بوائز ہائر سیکنڈری اسکول پنگریو کے ہیڈ ماسٹر عبدالکریم کھسکھانی اور چار دیگر اساتذہ، جن میں قائم علی کھوسو، راجہ فرحان کمبھر، سردار عباس آرائیں اور عبدالستار کمبھر شامل ہیں مبینہ طور پر ان پر گرلز ہائی اسکول میں فرسٹ ایئر اور انٹرمیڈیٹ کی کلاسیں چلانے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں درخواست گزار کے مطابق انہیں سوشل میڈیا پر ان کے خلاف مواد شائع کرنے اور دیگر الزامات عائد کرنے کی دھمکیاں بھی دی گئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انہیں تنہا اسکول آنے اور مبینہ نتائج بھگتنے کی دھمکیاں دی گئیں، جس سے ان کی ذاتی سلامتی اور سرکاری فرائض کی انجام دہی کے حوالے سے تشویش پیدا ہوئی ہے ہیڈ مسٹریس نے محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ معاملے کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کرائی جائیں، مبینہ ہراسانی اور دھمکیوں میں ملوث افراد کے خلاف قانون اور قواعد کے مطابق کارروائی کی جائے اور انہیں تحفظ فراہم کیا جائے۔

مزید خبریں

Back to top button