جرمنی میں موجود امریکی فوجی اڈّے ایرانی انٹیلی جنس کے نشانے پر ہیں،رپورٹ

فرینکفرٹ(جانوڈاٹ پی کے)ایرانی انٹیلی جنس کی جانب سے جرمنی میں امریکی فوجی اڈوں کو ممکنہ خفیہ حملوں کے لیے نشانہ بنانے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں جس کے بعد امریکا اور جرمنی کے سکیورٹی حکام میں تشویش بڑھ گئی ہے۔
جرمن کاروباری ہفت روزہ ویرٹ شافٹس ووخے کی رپورٹ کے مطابق ایران کے ممکنہ اہداف میں جرمنی کے رامشٹائن اور شپانگڈاہلیم فضائی اڈے شامل ہیں۔
رپورٹ میں مغربی انٹیلی جنس کے متعدد نامعلوم عہدیداروں کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اسرائیل نے تقریباً تین ہفتے قبل امریکی اور جرمن حکام کو ممکنہ خطرے سے آگاہ کیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق خدشات کا مرکز ایسے فوجی اڈے ہیں جو ایران سے جاری جنگ کے تناظر میں امریکی فوجی کارروائیوں، فضائی آپریشنز اور رسد کی فراہمی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
تاہم ممکنہ حملوں کی نوعیت، منصوبہ بندی یا کسی مخصوص کارروائی کے وقت سے متعلق تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
جرمنی میں واقع رامشٹائن فضائی اڈہ امریکی فضائیہ کی یورپ اور افریقہ سے متعلق کمانڈ کے علاوہ نیٹو کی اتحادی فضائی کمان کا اہم مرکز ہے۔
یہاں سے امریکی اور اتحادی افواج کے فضائی آپریشنز، رابطہ کاری اور فوجی رسد کے امور میں مدد فراہم کی جاتی ہے۔
دوسری جانب شپانگڈاہلیم فضائی اڈہ بھی امریکی اور نیٹو فضائی کارروائیوں کے لیے اہم حیثیت رکھتا ہے اور یہاں امریکی لڑاکا طیارے تعینات کیے جاتے رہے ہیں۔
ان دونوں اڈوں کی اہمیت کے باعث انہیں ممکنہ خطرات کے جائزوں میں شامل کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔
تاہم ایرانی انٹیلی جنس کی جانب سے حملوں کی تیاری کے دعوے کی آزادانہ تصدیق اور جرمن یا امریکی حکام کا باضابطہ مؤقف دستیاب معلومات میں شامل نہیں ہے۔



