ایک اور مشرقی پاکستان بنانے کی کوشش نظر آ رہی ہے،سہیل آفریدی کا پیپلز پارٹی پر بڑا وار

پشاور (جانو ڈاٹ پی کے)وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے پیپلز پارٹی کے موجودہ اقدامات پر شدید تنقید کرتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ ان اقدامات سے ایک اور مشرقی پاکستان بنانے کی کوشش نظر آ رہی ہے۔
صوبائی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سہیل آفریدی نے گزشتہ روز گورنر کی جانب سے منعقد کیے گئے اجلاس کو انتہائی افسوسناک اور قابل مذمت قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں عوام کی دو تہائی اکثریت سے منتخب حکومت موجود ہے جبکہ صوبائی اسمبلی، کابینہ اور حکومت مکمل طور پر فعال اور برقرار ہیں۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ گورنر، چیف سیکرٹری اور آئی جی کو بلا رہے ہیں اور غیر آئینی اجلاس منعقد کیے جا رہے ہیں۔ گورنر کا اس نوعیت کے اجلاس کی صدارت کرنا آئین اور جمہوریت پر حملہ ہے۔ دو تہائی اکثریت والی صوبائی حکومت کی موجودگی میں گورنر کا اس طرح اجلاس منعقد کرنا ناقابل قبول ہے۔
سہیل آفریدی نے کہا کہ پاکستان کو توڑنے کی کسی سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے۔ گزشتہ روز ہونے والے اجلاس کی آئینی حیثیت پر ایڈووکیٹ جنرل سے رائے لی جائے گی۔ وزیراعلیٰ کو ہٹانے کا آئینی طریقہ موجود ہے اور اس کے لیے عدم اعتماد کا طریقہ کار اختیار کیا جاتا ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ گورنر کی غیر آئینی سرگرمیوں کا مقصد صوبائی حکومت کو اشتعال دلانا اور اسے ردعمل پر مجبور کرنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی کو جمہوریت پر شب خون مارنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
وزیراعلیٰ نے پیپلز پارٹی پر ماضی کے کردار پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جمہوریت کا نعرہ لگانے والی جماعت نے ماضی میں ذاتی مفادات کے لیے بنگلا دیش کو پاکستان سے جدا کیا، جبکہ ذاتی مفادات کو قومی مفادات پر ترجیح دینا پیپلز پارٹی کا وتیرہ رہا ہے۔
سہیل آفریدی نے خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے کہا کہ صوبے میں دوبارہ دہشت گردی مسلط کیے جانے کے بعد حالات مسلسل خراب کیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق عمران خان اور ان کی حکومت نے ہمیشہ خیبر پختونخوا پولیس اور عوام کا ساتھ دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 15 اکتوبر 2025 کو حلف اٹھانے کے بعد سے پولیس، سی ٹی ڈی اور اسپیشل برانچ کو مسلسل مضبوط کیا جا رہا ہے۔ سی ٹی ڈی کے انفرا اسٹرکچر اور اسپیشل برانچ کو بہتر بنانے کے لیے بھرپور سرمایہ کاری اور اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
وزیراعلیٰ نے وفاقی حکومت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا کے ساتھ ہمیشہ سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ 2018 میں قبائلی اضلاع کو خیبر پختونخوا میں ضم کیا گیا، تاہم آج تک ان کا مالی طور پر مکمل انضمام نہیں کیا گیا اور انضمام کے وقت طے کیے گئے مالی حقوق بھی فراہم نہیں کیے جا رہے۔



