پرسی من ( جاپانی پھل )نام

ایمل سفیان
پرسی من جسے ہمارے ہاں جاپانی پھل کے نام سے جانا جاتا ہے، ایک میٹھا اور رسیلا پھل ہے جس کا آبائی تعلق جاپان سے نہیں بلکہ چین سے ہے، البتہ بعد میں یہ جاپان اور مشرقی ایشیا کے دیگر علاقوں میں بڑے پیمانے پر کاشت کیا گیا۔ اس کا رنگ عموماً نارنجی سے سرخی مائل ہوتا ہے اور پکے ہوئے پھل کا ذائقہ نہایت میٹھا اور خوش ذائقہ ہوتا ہے۔ یہ عموماً خزاں اور ابتدائی سردیوں میں زیادہ دستیاب ہوتا ہے اور پاکستان کے نسبتاً ٹھنڈے علاقوں میں بھی اس کی کاشت کی جاتی ہے۔
جاپانی پھل غذائیت کے اعتبار سے بھی اہم ہے۔ اس میں وٹامن A کے پیش رو بیٹا کیروٹین اور وٹامن C پائے جاتے ہیں، جو جسم کے مدافعتی نظام اور آنکھوں کی صحت کے لیے اہم ہیں۔ اس میں موجود فائبر نظامِ ہاضمہ کو بہتر رکھنے، آنتوں کی صحت برقرار رکھنے اور قبض سے بچاؤ میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں پوٹاشیم اور مختلف قدرتی اینٹی آکسیڈنٹس بھی موجود ہوتے ہیں، جو متوازن غذا کا حصہ بن کر دل اور مجموعی صحت کے لیے مفید ثابت ہو سکتے ہیں۔
جاپانی پھل کو خون کی کمی کا علاج یا آئرن کا بڑا ذریعہ نہیں سمجھنا چاہیے، تاہم اس میں موجود وٹامن C غذا سے حاصل ہونے والے آئرن کے جذب میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ اس پھل کو تازہ کھانے کے علاوہ جام، چٹنی، سلاد، کیک اور اسموتھی میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کا جام گھر پر بھی آسانی سے تیار کی جا سکتا ہے۔
جاپانی پھل جام
اجزاء:
1 کلو پکے ہوئے جاپانی پھل
2 کپ چینی
2 کھانے کے چمچ لیموں کا رس
¼ چائے کا چمچ دار چینی پاؤڈر (اختیاری)
ترکیب: جاپانی پھل دھو کر چھیل لیں اور اگر بیج ہوں تو نکال دیں۔ پھل کو چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ کر یا اچھی طرح میش کر لیں۔ ایک بڑے برتن میں پھل، چینی اور لیموں کا رس ڈال کر اچھی طرح ملا دیں۔ برتن کو درمیانی آنچ پر رکھیں اور مسلسل چلاتے رہیں۔ چینی حل ہونے کے بعد آنچ ہلکی کر دیں اور تقریباً 30 سے 40 منٹ تک پکائیں۔ درمیان میں وقفے وقفے سے چلاتے رہیں تاکہ آمیزہ نیچے نہ لگے۔
جب آمیزہ گاڑھا ہو جائے اور چمچ پر جمنا شروع ہو جائے تو چولہا بند کر دیں۔ اگر دار چینی استعمال کرنی ہو تو آخر میں شامل کرکے اچھی طرح ملا دیں۔ تیار شدہ جام کو صاف اور خشک شیشے کے جار میں منتقل کریں، ٹھنڈا ہونے دیں اور پھر ڈھکن بند کرکے فریج میں رکھ دیں۔
نوٹ: جار اور ڈھکن کو استعمال سے پہلے اچھی طرح گرم پانی میں ابال کر جراثیم سے پاک کرنا بہتر ہے۔ گھریلو جام میں چونکہ تجارتی مصنوعات کی طرح محافظ اجزا شامل نہیں ہوتے، اس لیے اسے فریج میں رکھیں اور خراب ہونے کی علامات ظاہر ہوں تو استعمال نہ کریں۔



