برطانیہ میں گرفتارافراد کی رہائی نے سوال اٹھا دیے،ایران اور امریکاحیران

لندن (جانو ڈاٹ پی کے)برطانیہ میں امریکی فوج کے زیر استعمال RAF Fairford ایئر بیس کے قریب مبینہ دہشت گردی کی سازش کے الزام میں گرفتار کیے گئے پانچ افراد کی ضمانت پر رہائی نے معاملے کو مزید پراسرار بنا دیا ہے، جبکہ ایران نے واقعے میں ملوث ہونے کے الزامات کو مسترد کردیا ہے۔
برطانوی انسدادِ دہشت گردی پولیس نے پانچوں افراد کو پوچھ گچھ اور تفتیش کے بعد سخت شرائط پر ضمانت پر رہا کیا۔ پولیس کے مطابق ان کی رہائی کا مطلب یہ نہیں کہ تحقیقات ختم ہوگئی ہیں بلکہ وہ اب بھی زیر تفتیش ہیں۔
پولیس نے بعد میں بتایا کہ مشتبہ افراد کی گاڑیوں سے کوئی قابلِ استعمال دیسی ساختہ دھماکا خیز ڈیوائس نہیں ملی، تاہم کچھ مقدار میں پٹرول برآمد کیا گیا۔ حکام نے لندن میں بھی بعض مقامات پر تلاشی لی ہے۔
پانچوں افراد لندن سے تعلق رکھنے والے برطانوی شہری ہیں اور ان کی عمریں 20 سے 25 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔ انہیں ایئر بیس کے قریب تین سفید وینز میں مشتبہ سرگرمیوں کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات میں مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے، جن میں کسی غیر ملکی ریاست یا اس کے پراکسیز کا ممکنہ کردار بھی شامل ہے۔برطانوی وزیراعظم اینڈی برنہم نے کہا ہے کہ حکام کے پاس اس بات کے مضبوط اشارے موجود ہیں کہ ایران نے واقعے میں کوئی کردار ادا کیا ہوسکتا ہے، تاہم انہوں نے اس دعوے کی تفصیلات فراہم نہیں کیں اور واضح کیا کہ تحقیقات ابھی جاری ہیں۔ایران نے برطانوی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کا اس واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔ ایرانی سفارتخانے نے ان قیاس آرائیوں کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔مشتبہ افراد کی جلد رہائی پر امریکا میں بھی سوالات اٹھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ وہ خود انہیں رہا نہ کرتے، جبکہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی واقعے میں کسی غیر ملکی عنصر کے ملوث ہونے کا دعویٰ کیا، تاہم اس کی تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں۔یوں ایک طرف برطانوی حکام ایران کے ممکنہ کردار کی تحقیقات کر رہے ہیں، جبکہ دوسری طرف ایران الزامات کی تردید کررہا ہے اور پانچوں مشتبہ افراد کی ضمانت پر رہائی نے اس واقعے سے متعلق مزید سوالات پیدا کردیئے ہیں۔



