مری ڈویلپمنٹ پلان، پانی اور سڑکوں سمیت متعدد منصوبوں پر اہم فیصلے

لاہور (جانوڈاٹ پی کے) وزیراعلیٰ پنجاب آفس نے مری میں ایک روز قبل ہونے والے خصوصی اجلاس کا اعلامیہ جاری کر دیا، جس میں مری ڈویلپمنٹ پلان کے مختلف منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے متعدد اہم فیصلے کیے گئے۔
پاکستان مسلم لیگ (ن) کے صدر محمد نواز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت اجلاس میں چیئرپرسن سٹیئرنگ کمیٹی برائے مری ڈویلپمنٹ پروگرام مریم اورنگزیب نے تفصیلی بریفنگ دی۔
اجلاس کو بتایا گیا کہ مری میں واٹر سپلائی کے پانچ بڑے منصوبوں پر کام جاری ہے، جبکہ وزیراعلیٰ کی ہدایت پر پانی کی فراہمی سے متعلق چار بڑے منصوبے مکمل کیے جا چکے ہیں۔ ان منصوبوں کی تکمیل سے مری کو روزانہ 7 لاکھ گیلن اضافی پانی دستیاب ہو رہا ہے۔
بریفنگ کے مطابق ڈونگا گلی واٹر سپلائی منصوبے کی تکمیل کے بعد پانی کی فراہمی 50 ہزار گیلن سے بڑھ کر ساڑھے 3 لاکھ گیلن یومیہ ہو گئی ہے، جبکہ دھار جاوا، مسوٹ اور کھنی گاٹ میں بھی واٹر سپلائی منصوبے مکمل کر لیے گئے ہیں۔
دریائے جہلم سے مری تک بلک واٹر سپلائی میگا پراجیکٹ کی تکمیل کی ڈیڈ لائن دسمبر 2028 مقرر کی گئی ہے۔ منصوبے کے تحت 7 پمپنگ اسٹیشنز، 29.6 کلومیٹر طویل پائپ لائن اور واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹ تعمیر کیا جائے گا، جس سے مری اور کوٹلی ستیاں کی ساڑھے 4 لاکھ سے زائد آبادی کو فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔
اعلامیے کے مطابق مری کے 96 ہزار گھروں کو باؤزرز اور واٹر ٹینکرز کے ذریعے پانی کی فراہمی بھی جاری ہے۔
اجلاس میں راولپنڈی، مری، کشمیر (آر ایم کے) روڈ کی تعمیر، توسیع اور مرمت کے منصوبوں کی تکمیل کے لیے 31 اکتوبر کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ 1996 کے بعد طویل عرصے کے بعد آر ایم کے روڈ کی تعمیر، توسیع اور مرمت کا منصوبہ جاری ہے، جبکہ لینڈ سلائیڈنگ کی روک تھام کے لیے خصوصی اقدامات کے ساتھ سٹریٹ لائٹس، روڈ فرنیچر، شولڈرز اور ٹف ٹائل فٹ پاتھ بھی تعمیر کیے جا رہے ہیں۔
مال روڈ مری پر پہلے سرسبز ہل ویو پارک کے قیام کا منصوبہ بھی پیش کیا گیا۔ اعلامیے کے مطابق تجاوزات کے خاتمے کے بعد یہاں 600 افراد کی گنجائش والا ایمفی تھیٹر بنایا جائے گا، جبکہ اس کے ساتھ واک ایبل ایریاز، فیملی پارک، فوڈ سٹالز، کیاسک، 6 گیزبو اور بچوں کے لیے پلے ایریا بھی قائم کیا جائے گا۔
بانسرا گلی وائلڈ لائف پارک میں سیاحوں کے لیے پہلی مرتبہ زمین سے بلند ایلی ویٹڈ برج بھی تعمیر کیا جا رہا ہے۔ یہ برج نیچر ٹریل، جنگل جرنی، اینیمل کنگڈم اور لائن انکلوژر سے گزرے گا۔ منصوبے میں ٹائیگر اور لیپرڈ ہاؤس، پائن لاج، وائلڈ لائف ٹریڈ پارک، ایمفی تھیٹر، سووینئر شاپ، فوڈ کورٹ اور ایکو لاج بھی شامل ہیں۔
اجلاس میں بائیو ڈائیورسٹی پارک سمیت دیگر ترقیاتی منصوبوں پر بھی تفصیلی رپورٹ پیش کی گئی۔
اعلامیے کے مطابق مال روڈ پر دکانوں، ہوٹلوں اور کیفے کے لیے خصوصی قواعد و ضوابط وضع کرنے کا اصولی فیصلہ کیا گیا، جبکہ تاریخی جی پی او اور چرچ کو اصل حالت میں بحال اور برقرار رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
جھیکا گلی، جی پی او، گورنمنٹ ہاؤس اور کشمیر پوائنٹ پر بجلی کے بے ہنگم تار ہٹا کر انڈر گراؤنڈ وائرنگ کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا۔ مال روڈ سمیت مری کی نمایاں سڑکوں پر دکانوں کے آہنی شٹر کی جگہ لکڑی کے روایتی دروازے متعارف کرانے کی تجویز پر بھی اتفاق ہوا، جبکہ انتہائی پرانی اور شکستہ گاڑیوں کی مری میں آمدورفت محدود کرنے کی تجویز کا جائزہ لینے کا فیصلہ کیا گیا۔
بریفنگ کے مطابق جھیکا گلی منصوبے کے حوالے سے جاپانی ماہرین ارضیات کی تفصیلی رپورٹ موصول ہو چکی ہے۔ منصوبے کے تحفظ کے لیے مجموعی طور پر 296 پائلز لگائی جائیں گی، جن میں سے 200 کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے۔
وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے آئیسکو حکام کو سامبلی ہسپتال میں بجلی کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کے لیے مخصوص بجلی لائن فراہم کرنے کی ہدایت بھی کی۔



