’’قحط زدہ قرار دیا جائے‘‘، تھرپارکر خشک سالی کی لپیٹ میں، مویشیوں کا چارہ بلیک میں فروخت، نقل مکانی شروع

تھرپارکر(رپورٹ: میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے) تھر سٹیزن فورم کے رہنماؤں نے تھر میں مطلوبہ بارشیں نہ ہونے، مویشیوں کے لیے چارہ ختم ہونے اور فصلیں خشک ہونے کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ تھرپارکر کو فوری طور پر قحط زدہ علاقہ قرار دے کر متاثرہ ماروئڑوں اور مویشیوں کے لیے ہنگامی بنیادوں پر امداد فراہم کی جائے۔ مٹھی میں خشک سالی کی صورتحال کے حوالے سے منعقدہ اجلاس میں تھر سٹیزن فورم کے چیئرمین اوبھایو جوڻیجو، عظمیٰ ابڑنگ، اعجاز بجیر، قربان سمیجو، جی۔ ایم سونہاراڻي، ساجن چارو اور دیگر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ تھرپارکر کے ساتوں تعلقوں، ڈپلو، مٹھی، کالوئی، چھاچھرو، نگرپارکر، اسلام کوٹ اور ڈاہلی میں بروقت بارشیں نہ ہونے کے باعث لاکھوں ماروئڑوں کی جانب سے کروڑوں روپے خرچ کرکے کاشت کی گئی فصلیں اور بیج ضائع ہوگئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بارشیں نہ ہونے اور چراگاہوں میں چارہ ختم ہونے کے باعث تھر کے لوگ اپنے مویشیوں کو بیراجی علاقوں کی جانب منتقل کرنے پر مجبور ہیں۔ موجودہ صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ رواں سال مون سون کی مطلوبہ اور فائدہ مند بارشیں نہ ہونے کے باعث تھر خشک سالی کی سنگین صورتحال سے دوچار ہے۔ فورم کے رہنماؤں نے کہا کہ تھر سٹیزن فورم وقتاً فوقتاً تھر کے مسائل کے حوالے سے کمشنر میرپورخاص، ڈپٹی کمشنر تھرپارکر اور دیگر متعلقہ حکام کو آگاہ کرتا رہا ہے، تاہم ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ساتوں تعلقوں میں اسسٹنٹ کمشنرز اور مختیارکاروں کے ذریعے خشک سالی کی صورتحال کا جامع سروے کراکے رپورٹ مرتب نہیں کی گئی، جس کے باعث خدشات پیدا ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تھر قدرتی وسائل سے مالا مال خطہ ہے، جہاں کوئلے، چائنا کلے، گرینائٹ اور نمک کی کانوں سمیت قدرتی وسائل کے بڑے ذخائر موجود ہیں، لیکن اس کے باوجود ہر چند سال بعد خشک سالی کے باعث لاکھوں ماروئڑے اور ان کے مویشی متاثر ہوتے ہیں۔ رہنماؤں کا کہنا تھا کہ خشک سالی کے باعث بھوک، بدحالی اور بے روزگاری سمیت مختلف سماجی مسائل جنم لیتے ہیں، اس لیے حکومت کو متاثرہ لوگوں اور مویشیوں کی دیکھ بھال کے لیے بروقت اور مؤثر اقدامات کرنے چاہئیں۔ تھر سٹیزن فورم نے سندھ حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہنگامی بنیادوں پر تھرپارکر کو قحط زدہ علاقہ قرار دے کر محکمہ ریلیف کو فعال کیا جائے، متاثرہ خاندانوں کے لیے مالی امداد، مویشیوں کے لیے چارہ اور پینے کا پانی فراہم کیا جائے۔ فورم نے عالمی اداروں اور سماجی تنظیموں سے بھی اپیل کی کہ تھر میں صورتحال کا سروے کرایا جائے اور ماروئڑوں کی مدد کے ساتھ ساتھ پانی، صحت اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لیے اپنا کردار ادا کیا جائے۔



