چوتھی صدی قبل مسیح کا گمشدہ شہر، پومپوہار کے مزید راز سامنے آگئے
دن رات آباد رہتے تھے بازار، صدیوں پرانے پومپوہار کی حیران کن داستان

چینئی (جانو ڈاٹ پی کے) بھارت کی ریاست تامل ناڈو کا قدیم ساحلی شہر پومپوہار ایک بار پھر دنیا کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے، جہاں سمندر کی تہہ میں آثارِ قدیمہ کی حالیہ کھدائی کے دوران 250 سے زائد نوادرات اور ان کی باقیات دریافت ہوئی ہیں۔
تامل ناڈو محکمہ آثارِ قدیمہ کے مطابق پومپوہار، جسے قدیم زمانے میں کاویری پومپٹنم کہا جاتا تھا، چوتھی صدی قبل مسیح میں ایک خوشحال بندرگاہی شہر تھا اور ایک دور میں چولا حکمرانوں کا دارالحکومت بھی رہا۔ سنگم ادب کی معروف تصانیف میں شہر کی وسیع تجارتی سرگرمیوں، بلند عمارتوں اور مختلف مذاہب سے متعلق عبادت گاہوں کا ذکر ملتا ہے۔
قدیم ادبی شواہد کے مطابق پومپوہار میں دن اور رات دونوں اوقات میں بازار آباد رہتے تھے۔ مختلف علاقوں سے سونا، جواہرات، صندل، عود، موتی اور دیگر قیمتی اشیا یہاں پہنچتی تھیں، جبکہ سری لنکا سمیت بیرونِ ملک سے بھی مصنوعات شہر کی منڈیوں تک آتی تھیں۔
سمندر کی تہہ میں 250 سے زائد دریافتیں
تامل ناڈو محکمہ آثارِ قدیمہ نے پومپوہار میں زیرِ آب کھدائی کا تیسرا مرحلہ 6 ستمبر سے شروع کیا تھا جو 22 ستمبر کو مکمل ہوا۔ ماہرین کے مطابق اس دوران سمندر کی تہہ سے مٹی کے برتنوں کے 250 سے زائد ٹکڑے اور دیگر آثار ملے ہیں۔
محققین کے مطابق دریافت ہونے والے بعض بڑے برتن ممکنہ طور پر تجارتی جہازوں میں سامان ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال ہوتے تھے، تاہم ان کی درست قدامت اور استعمال کے بارے میں حتمی نتائج تفصیلی سائنسی مطالعے کے بعد سامنے آئیں گے۔
پومپوہار میں اس سے قبل بھی زمین اور سمندر دونوں مقامات پر کھدائیاں کی جا چکی ہیں، جن کے دوران قدیم کشتی گاہ، بودھ خانقاہ، کنوؤں، آبی گڑھوں، اینٹوں کے ڈھانچوں اور رومی طرز کے مٹی کے برتنوں کے آثار دریافت ہوئے۔
کیا پومپوہار کا بڑا حصہ سمندر برد ہوگیا؟
ماہرین کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ ایک زمانے میں آباد اور تجارتی سرگرمیوں سے بھرپور یہ شہر سمندر کی تہہ تک کیسے پہنچا۔
تامل ناڈو محکمہ آثارِ قدیمہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ دستیاب شواہد سے پومپوہار کے ایک حقیقی قدیم شہر ہونے کی تصدیق ہوتی ہے، تاہم ابھی یہ حتمی طور پر معلوم نہیں ہوسکا کہ شہر کا کتنا حصہ سمندر برد ہوا، یہ عمل کب پیش آیا اور آیا شہر بتدریج سمندر میں ڈوبا یا کسی بڑے قدرتی واقعے نے اسے متاثر کیا۔
آثارِ قدیمہ کے ماہر پروفیسر کے راجن کے مطابق ممکن ہے کہ پومپوہار کا تقریباً دو کڈم حصہ سمندر برد ہوا ہو، تاہم اس امکان کی حتمی تصدیق کے لیے مزید تحقیق اور کھدائی ضروری ہے۔
قدیم تجارت کے عالمی روابط کے شواہد
پومپوہار سے ملنے والے آثار اس قدیم شہر کے وسیع تجارتی روابط کی جانب بھی اشارہ کرتے ہیں۔ واناگیری توساکولم میں براہمی رسم الخط سے مزین مٹی کے برتن کا ایک ٹکڑا دریافت ہوا، جسے محکمہ آثارِ قدیمہ کے مطابق تیسری صدی قبل مسیح سے جوڑا جاتا ہے۔
اسی طرح رومی طرز کے رولڈ، اریٹائن اور ایمفورا برتنوں کے ٹکڑوں کی دریافت بھی ہوئی ہے، جو قدیم دور میں بیرونی علاقوں کے ساتھ تجارتی روابط کے شواہد فراہم کرتے ہیں۔
تھائی لینڈ کے علاقے ٹاکوا پا میں نویں صدی عیسوی کے ایک تامل کتبے سے بھی پومپوہار سے منسلک تجارتی گروہوں کے روابط کا پتا چلتا ہے۔
سمندر کی تہہ میں کھدائی، انتہائی مشکل کام
ماہرین کے مطابق زیرِ آب آثارِ قدیمہ کی تحقیق خشکی پر کھدائی کے مقابلے میں کہیں زیادہ مشکل ہے۔ پومپوہار کی ٹیم میں خصوصی تربیت یافتہ آثارِ قدیمہ کے ماہرین کے ساتھ سکوبا ڈائیونگ کے ماہرین بھی شامل ہیں اور ٹیم تقریباً 30 میٹر تک سمندر کی گہرائی میں کام کرسکتی ہے۔
سمندر کی کم روشنی، ناموافق موسم، ماہی گیروں کے جال، سمندری حیات اور دیگر خطرات کے باعث کھدائی کے دوران خصوصی احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔
محکمہ آثارِ قدیمہ کے مطابق مون سون کے باعث سمندری حالات خطرناک ہونے کے پیش نظر زیرِ آب تحقیق کا اگلا مرحلہ جنوری میں دوبارہ شروع کیا جائے گا۔
محققین کو امید ہے کہ آئندہ کھدائیوں سے پومپوہار کی قدیم شہری زندگی، تجارت اور سمندر برد ہونے کی وجوہات سے متعلق مزید شواہد سامنے آئیں گے اور صدیوں سے سمندر کی تہہ میں چھپے اس شہر کی تاریخ کے کئی راز کھل سکیں گے۔



