مہنگائی اور توانائی اخراجات، امریکی انتخابات میں معاشی مسائل اہم ہوگئے

امریکی انتخابات سے قبل ریپبلکنز نے محفوظ حلقوں میں بھی خزانے کھول دیے

واشنگٹن (سپیشل رپورٹ:جانو ڈاٹ پی کے) امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل ریپبلکن پارٹی نے ایسے درجنوں ہاؤس حلقوں میں انتخابی مہم کے لیے اضافی مالی وسائل استعمال کرنا شروع کردیئے ہیں جنہیں پہلے پارٹی کے لیے محفوظ سمجھا جاتا تھا۔

رائٹرز کے مطابق ریپبلکن پارٹی سے وابستہ تین عہدیداروں نے بتایا کہ داخلی انتخابی اعداد و شمار میں بعض ریپبلکن حلقوں کے حوالے سے خدشات سامنے آنے کے بعد پارٹی قیادت نے انتخابی مہمات کو خبردار کیا ہے کہ موجودہ عوامی پولز میں برتری کے باوجود کسی نشست کو یقینی نہ سمجھا جائے۔

رپورٹ کے مطابق یکم ستمبر سے بڑے ریپبلکن گروپس اور عطیہ دہندگان نے کم از کم 39 کانگریسی حلقوں میں خرچ شروع کیا ہے جہاں رواں انتخابی سائیکل میں اس سے قبل کوئی بڑی سرمایہ کاری نہیں کی گئی تھی۔ ریپبلکن گروپس نے آئندہ ہفتوں کے لیے تقریباً 888 ملین ڈالر کی تشہیری بکنگ بھی کر رکھی ہے، جبکہ ڈیموکریٹس کی جانب سے یہ رقم تقریباً 666 ملین ڈالر ہے۔

ریپبلکن حکمت عملی کے تحت پارٹی اپنے امیدواروں کو انتخابی مہم میں اضافی وسائل فراہم کرکے ان حلقوں میں اپنی پوزیشن مضبوط رکھنے کی کوشش کر رہی ہے۔ ریپبلکن نیشنل کمیٹی کی ترجمان نٹالی بالڈاسرے نے کہا کہ پارٹی دستیاب مالی وسائل استعمال کرتے ہوئے ووٹرز کو پولنگ اسٹیشنز تک لانے اور اپنے امیدواروں کی انتخابی مہم کو تقویت دینے پر توجہ دے رہی ہے۔

رپورٹ میں وسکونسن کے ریپبلکن رکن برائن اسٹیل کے حلقے کی مثال بھی دی گئی، جہاں 2024 کے صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ نے تقریباً 4.5 فیصد پوائنٹس سے کامیابی حاصل کی تھی۔ اس حلقے میں رواں ماہ قدامت پسند سپر پی اے سی نے 1.5 ملین ڈالر خرچ کیے، جو موجودہ انتخابی سائیکل میں اس امیدوار کی مہم پر اس نوعیت کی پہلی سرمایہ کاری تھی۔

اسی طرح شمالی کیرولائنا کے تیسرے کانگریسی ضلع میں ریپبلکن رکن گریگوری مرفی کو ایک قدامت پسند سیاسی ایکشن کمیٹی سے ایک لاکھ 31 ہزار 107 ڈالر کی مدد ملی، جبکہ ڈیموکریٹس جولائی سے اب تک انہیں شکست دینے کی مہم پر 3 لاکھ 26 ہزار ڈالر سے زیادہ خرچ کر چکے ہیں۔

امریکی ایوان نمائندگان میں ریپبلکنز کو اس وقت معمولی اکثریت حاصل ہے، جبکہ 3 نومبر کے وسط مدتی انتخابات میں ایوان کی تمام 435 نشستوں پر انتخابات ہوں گے۔ رائٹرز کے مطابق انتخابی نتائج کانگریس میں دونوں جماعتوں کے توازن پر اثر انداز ہوسکتے ہیں

ریپبلکن حلقوں میں معاشی دباؤ بھی انتخابی مہم کا اہم موضوع بن گیا ہے۔ ایندھن، توانائی اور زرعی اخراجات میں اضافے نے خصوصاً زرعی علاقوں میں ووٹرز کے لیے مہنگائی اور اخراجاتِ زندگی کو اہم مسئلہ بنا دیا ہے۔ ستمبر کے ایک رائٹرز/اِپسوس سروے میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مجموعی منظوری 32 فیصد ریکارڈ کی گئی، جبکہ رجسٹرڈ ووٹرز میں 43 فیصد نے ڈیموکریٹس اور 35 فیصد نے ریپبلکنز کو وسط مدتی انتخابات میں ووٹ دینے کی ترجیح ظاہر کی؛ یہ ایک مخصوص وقت کا قومی سروے ہے اور انتخابی نتائج کی پیش گوئی نہیں کرتا۔

مزید خبریں

Back to top button