صرف سفارت کاری سے تنازع حل ہوسکتا ہے،ایران کا امریکا کو دوٹوک جواب

تہران (جانو ڈاٹ پی کے)ایران نے امریکا اور اسرائیل کے ساتھ جاری تنازع کے حل کے لیے سفارت کاری کو واحد راستہ قرار دیتے ہوئے آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے لیے اپنی شرائط واضح کردیں۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ ایران کی شرائط واضح ہیں اور آبنائے ہرمز کھولنے کی کوئی بھی پیش رفت ان شرائط کی تکمیل سے مشروط ہوگی۔ ان کے مطابق صرف مذاکرات کے ذریعے ہی موجودہ تعطل ختم کیا جاسکتا ہے۔
ایران نے گزشتہ ہفتے نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر ایک امن تجویز پیش کی تھی، جس کے بارے میں تہران کا کہنا تھا کہ اسے قطری ثالثوں کے ذریعے امریکا تک پہنچایا گیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز کہا کہ انہوں نے ایرانی تجویز مسترد کردی ہے۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایران فوری طور پر آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے معاہدہ کرنا چاہتا ہے کیونکہ وہ شدید دباؤ کا سامنا کر رہا ہے۔
تاہم عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ ثالثوں نے ابھی تک تہران کو امریکا کی جانب سے تجویز مسترد کیے جانے کا باضابطہ پیغام نہیں پہنچایا۔ انہوں نے کہا کہ ایران ثالثوں کی جانب سے واشنگٹن کا حتمی مؤقف ملنے کا انتظار کر رہا ہے، جس کے بعد آئندہ کا فیصلہ کیا جائے گا۔
رائٹرز کے مطابق ایران کی تجویز میں امریکی فوجی دباؤ کم کرنے اور ایرانی بندرگاہوں پر عائد ناکہ بندی ختم ہونے کی صورت میں ایک ہفتے کے اندر آبنائے ہرمز کھولنے اور دشمنی روکنے کی بات شامل تھی۔ اس کے بعد دونوں ممالک باہمی طور پر طے شدہ معاملات پر وسیع مذاکرات شروع کرسکتے ہیں۔
ایرانی فوج کے کمانڈر ان چیف امیر حاتمی نے بھی کہا ہے کہ جنگ ایک اہم اور فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ ان کے مطابق تہران ایسی صورتحال قبول نہیں کرے گا جس میں ایران کی تجارت محدود ہو جبکہ غیر ملکی طاقتیں خطے کی تزویراتی آبی گزرگاہوں کو استعمال کرتی رہیں۔



