اجتماعی قبروں کی دریافت، کوسوو میں9سرب افراد زیرحراست

زوبن پوٹوک (جانو ڈاٹ پی کے)کوسوو پولیس نے شمالی قصبے زوبن پوٹوک میں جنگی جرائم کے شبے میں 9 سرب افراد کو گرفتار کرلیا ہے۔ حکام کے مطابق کارروائی 1998-99 کی جنگ کے دوران نسلی البانوی دانشوروں کی گمشدگی کے مقدمے سے متعلق ہے۔
کوسوو پولیس اور اسپیشل پراسیکیوٹر آفس نے مشترکہ بیان میں بتایا کہ کارروائی کو ”ڈوزیئر 23“ کا نام دیا گیا ہے۔ حکام نے گرفتار افراد کی شناخت سمیت مزید تفصیلات جاری نہیں کیں۔
یہ گرفتاریاں زوبن پوٹوک کے سرب اکثریتی علاقے میں جولائی اور اگست کے دوران دریافت ہونے والی دو نئی اجتماعی قبروں کی کھدائی کے بعد عمل میں آئی ہیں۔ حکام کے مطابق وہاں سے کم از کم 23 افراد کی باقیات برآمد ہوئی تھیں۔
مذکورہ باقیات میں مبینہ طور پر ”گروپ آف انٹلیکچوئلز“ کے ارکان بھی شامل ہیں، جن میں متروویکا سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹرز، پروفیسرز اور انسانی حقوق کے کارکن شامل تھے۔ یہ افراد اپریل 1999 میں لاپتا ہوئے تھے۔ حکام نے رواں ماہ کے آغاز میں تصدیق کی تھی کہ برآمد ہونے والی تین افراد کی باقیات کی شناخت گروپ کے ارکان کے طور پر ہوئی ہے۔
پولیس کے مطابق زوبن پوٹوک میں جنگی جرائم کی تحقیقات کئی ماہ سے جاری تھیں اور اس سے قبل بھی علاقے سے تعلق رکھنے والے تین مشتبہ افراد کو گرفتار کیا جاچکا ہے۔
دوسری جانب سربیا کے حکومتی دفتر برائے کوسوو نے کارروائی کی مذمت کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ 9 سرب افراد کو جنگی جرم میں مبینہ ملوث ہونے کے بہانے گرفتار کیا گیا۔ سرب حکام نے الزام عائد کیا کہ کارروائی کا مقصد زوبن پوٹوک میں موجود سرب آبادی پر مزید دباؤ ڈالنا اور انہیں خوف زدہ کرنا ہے۔
1998-99 کی کوسوو جنگ میں تقریباً 13 ہزار افراد ہلاک جبکہ لگ بھگ 4 ہزار لاپتا ہوئے تھے۔ تنازع کے بعد ہزاروں افراد کی باقیات اجتماعی قبروں سے برآمد ہوئیں، تاہم اب بھی تقریباً 1600 افراد لاپتا ہیں۔
کوسوو کی آزادی کو سربیا تسلیم نہیں کرتا اور بلغراد و پرسٹینا کے درمیان تعلقات اب بھی کشیدہ ہیں، جس کے باعث جنگ کے دوران لاپتا ہونے والے افراد کی تلاش کا عمل بھی سست روی کا شکار ہے۔



