یمن میں حوثیوں پر بچوں کی مبینہ جبری بھرتی اور جنگی استعمال کا الزام

صنعا(ویب ڈیسک) یمن کی سول سوسائٹی تنظیموں نے الزام عائد کیا ہے کہ ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا نے حالیہ کارروائیوں کے دوران بچوں کو مبینہ طور پر زبردستی بھرتی کرکے جنگی محاذوں پر بھیجا ہے۔

تنظیموں کے مشترکہ بیان کے مطابق تعز، بحیرہ احمر کے مغربی ساحلی علاقوں، مارب اور الجوف میں کم عمر جنگجوؤں کی موجودگی اور گرفتاری کے متعدد واقعات سامنے آئے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ بچوں کو مسلح تنازع میں استعمال کرنا بین الاقوامی قانون کے تحت جنگی جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ تنظیموں کے مطابق حوثیوں کی حالیہ کارروائیوں میں شہری علاقوں، گھروں، اسکولوں اور طبی مراکز کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک کے مطابق حوثیوں کی حالیہ کارروائیوں کے بعد یمن میں کم از کم 125 شہری ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں، جبکہ تقریباً ایک لاکھ 25 ہزار افراد بے گھر ہوچکے ہیں۔

سول سوسائٹی تنظیموں نے خبردار کیا ہے کہ یمن میں جاری نئی لڑائی پہلے سے سنگین انسانی بحران کو مزید شدت دے سکتی ہے اور شہری آبادی کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button