لاہور پولیس نے9مئی طرز کے حملوں کی منصوبہ بندی ناکام بنادی

پرامن احتجاج ہر شہری کا حق، بعض سرگرمیاں دائرے سے باہر ہیں، ڈی آئی جی آپریشنز

 لاہور (جانو ڈاٹ پی کے)لاہور میں پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج سے قبل پولیس نے ایک مبینہ آڈیو ریکارڈنگ کی بنیاد پر کارروائی کرتے ہوئے خاتون سمیت دو افراد کے خلاف مقدمہ درج کرلیا، جبکہ ایک شخص کو گرفتار کیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق گرفتار ملزم کے موبائل فون سے ایک خاتون کی آڈیو ریکارڈنگ ملی ہے۔

ڈی آئی جی آپریشنز لاہور فیصل کامران کے مطابق پولیس کے سامنے آنے والی مبینہ آڈیو میں فاطمہ نامی خاتون کی جانب سے 20 سے 30 افراد کو لانے اور انہیں احتجاج کے لیے مبینہ طور پر تربیت دینے سے متعلق گفتگو کی گئی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گرفتار شخص کی شناخت امین کے نام سے ہوئی ہے اور اس کا تعلق ساہیوال سے بتایا گیا ہے

فیصل کامران کے مطابق مبینہ آڈیو گرفتار شخص کے موبائل فون سے برآمد ہوئی، جس کا فرانزک پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی سے کرایا جائے گا۔ پولیس یہ بھی تحقیقات کر رہی ہے کہ مبینہ طور پر افراد کو کہاں تربیت دی جا رہی تھی اور آیا باہر سے لوگوں کو لاہور لانے کی کوشش کی جا رہی تھی یا نہیں۔پولیس کے مطابق مقدمے میں خاتون سمیت دیگر افراد کو بھی نامزد کیا گیا ہے جبکہ گرفتار ملزم کے تین ساتھی کارروائی کے دوران فرار ہوگئے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ دیگر ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔

ڈی آئی جی آپریشنز نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا حق ہے، تاہم پولیس کے مطابق بعض سرگرمیاں پرامن احتجاج کے دائرے میں نہیں آتیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مبینہ آڈیو اور اس سے سامنے آنے والی معلومات کی تحقیقات کا مقصد احتجاج سے متعلق مختلف دعووں اور پولیس کو موصول ہونے والی اطلاعات کا جائزہ لینا ہے۔

دوسری جانب ڈیفنس اے تھانے کی حدود میں پیش آنے والے مبینہ اجتماعی زیادتی کے واقعے کی تحقیقات کے حوالے سے بھی فیصل کامران نے بتایا کہ پولیس مختلف پہلوؤں سے تفتیش کر رہی ہے۔ ان کے مطابق سی سی ڈی، آپریشنز اور انویسٹی گیشن ونگ مشترکہ طور پر کیس پر کام کر رہے ہیں جبکہ ایک گاڑی بھی قبضے میں لی گئی ہے۔

مبینہ آڈیو کے معاملے میں حتمی نتیجہ فرانزک جانچ اور مزید تفتیش کے بعد سامنے آئے گا، اس لیے فی الحال آڈیو میں موجود دعووں کو پولیس کے مؤقف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

مزید خبریں

Back to top button