بدین میں مبینہ بلیک میلنگ گروہ کی سرگرمیوں کا انکشاف، تحقیقات کا مطالبہ

بدین(مرتضی میمن\جانوڈاٹ پی کے) بدین شہر میں خواتین پر مشتمل مبینہ گروہ کی جانب سے شہریوں کو مختلف طریقوں سے اپنے جال میں پھنسا کر خفیہ کیمروں کے ذریعے ویڈیوز بنانے اور بعد ازاں بلیک میل کرکے رقم طلب کرنے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق حالیہ واقعے میں ایک نوجوان خاتون مبینہ طور پر بدین کے ایک دکاندار کے پاس گئی اور چند ہزار روپے مالیت کا میک اپ کا سامان خریدنے کے بعد رقم ادا کرنے سے معذرت کی۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ خاتون نے متبادل طور پر معاملہ طے کرنے کی پیشکش کی اور بعد ازاں دکاندار سے شہر کے ایک رہائشی مقام پر ملاقات کی۔
ذرائع کے مطابق اس ملاقات کے دوران خفیہ کیمرے کے ذریعے دکاندار کی مبینہ ویڈیو ریکارڈ کی گئی، جسے کچھ دیر بعد واٹس ایپ کے ذریعے دکاندار کو بھیج دیا گیا۔ مبینہ طور پر ویڈیو منظرعام پر لانے کی دھمکی دے کر دکاندار سے 2 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دکاندار کی جانب سے رقم کی عدم دستیابی ظاہر کرنے پر ایک وکیل اور سماجی کارکن نے مبینہ طور پر اس سے رابطہ کیا اور معاملہ ختم کرانے کی یقین دہانی کرائی۔ دعوے کے مطابق ایک لاکھ روپے کی ادائیگی کے بعد معاملہ ختم کرنے اور ویڈیو حذف کرنے کا وعدہ کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ واقعے کے بعد دیگر شہریوں کی جانب سے بھی اسی نوعیت کی مبینہ بلیک میلنگ سے متعلق معلومات سامنے آرہی ہیں، تاہم بدنامی کے خدشے کے باعث متاثرہ افراد کی جانب سے پولیس یا متعلقہ اداروں سے باضابطہ طور پر رجوع نہیں کیا گیا۔
شہری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ اگر بدین میں اس نوعیت کی سرگرمیاں جاری ہیں تو ان کی مکمل اور شفاف تحقیقات کی جائیں تاکہ مبینہ طور پر شہریوں کو بلیک میل کرنے والے عناصر اور ان کے ممکنہ سہولت کاروں کا تعین ہوسکے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ متاثرہ افراد کو قانونی تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ کسی خوف یا دباؤ کے بغیر متعلقہ اداروں سے رجوع کرسکیں۔
تاہم مذکورہ الزامات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی، جبکہ پولیس یا متعلقہ حکام کی جانب سے تاحال کسی مبینہ گروہ یا اس کے سہولت کاروں کی باضابطہ نشاندہی سامنے نہیں آئی۔ شہریوں نے مطالبہ کیا ہے کہ دستیاب شواہد کی بنیاد پر تحقیقات کی جائیں اور الزامات درست ثابت ہونے کی صورت میں ذمہ دار افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔



