دئی شہر کے تعلیمی ادارے تباہی کے دہانے پر، گرلز مڈل اسکول 6 سال سے بند

بدین (رپورٹ: مرتضیٰ میمن/جانو ڈاٹ پی کے)دئی شہر کے تعلیمی ادارے بدانتظامی اور عدم توجہی کے باعث زبوں حالی کا شکار ہوگئے۔ گرلز مڈل اسکول دئی گزشتہ 6 سال سے تدریسی عملے کی عدم دستیابی کے باعث بند ہے، جس کے باعث شہر اور گردونواح کی طالبات پانچویں جماعت کے بعد تعلیم جاری رکھنے سے محروم ہیں۔
دوسری جانب دئی ہائر سیکنڈری اسکول کی عمارت بھی مبینہ ناقص تعمیراتی کام کے باعث متاثر ہونے لگی ہے۔ اسکول کی عمارت تقریباً پانچ سال قبل تعمیر کی گئی تھی، تاہم مقامی افراد کے مطابق چھت سے پلستر کے ٹکڑے گرنے لگے ہیں جبکہ مختلف حصوں کی دیواروں میں دراڑیں بھی پڑ گئی ہیں۔
اسکول میں لاکھوں روپے مالیت کے کمپیوٹرز موجود ہونے کے باوجود آپریٹر نہ ہونے کے باعث زیرِ استعمال نہیں آرہے، جس سے ان کے خراب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ اسکول میں لیبارٹری اور لائبریری کی سہولت بھی موجود نہیں، جس کے باعث سیکڑوں طلبہ کی تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں۔
دئی گرلز مڈل اسکول طویل عرصے سے تدریسی عملے کی عدم تعیناتی کے باعث بند پڑا ہے، جبکہ اسکول کی عمارت بھی خستہ حالی کا شکار ہوچکی ہے۔ اسکول کی بندش کے باعث متعدد طالبات پانچویں جماعت کے بعد اپنی تعلیم جاری نہیں رکھ پارہیں۔
ادھر گرلز پرائمری اسکول اور بوائز پرائمری اسکول کی عمارتیں بھی خستہ حالی کا شکار ہیں۔ مقامی افراد کے مطابق دونوں اسکولوں کی چھتوں سے پلستر کے ٹکڑے گرنا معمول بن چکا ہے اور ماضی میں بچے زخمی بھی ہوچکے ہیں۔
تعلیمی اداروں میں تدریسی عملے، فرنیچر، پینے کے صاف پانی اور واش رومز سمیت دیگر بنیادی سہولیات کی بھی شدید کمی کی شکایات سامنے آئی ہیں۔
اس صورتحال پر سیاسی و سماجی رہنماؤں مرتضیٰ شام، لکاڏنو خاصخیلی، فتح خان جمالي اور فقیر عبدالستار جمالي جبکہ طلبہ لال جان مینگھواڑ، وراٹ مینگھواڑ، رزاق خاصخیلی اور آکاش بھیل سمیت دیگر نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دئی شہر کے تعلیمی ادارے مسلسل عدم توجہی کے باعث سنگین مسائل سے دوچار ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ دئی شہر کے تمام تعلیمی اداروں میں ہنگامی بنیادوں پر تدریسی عملہ، فرنیچر، صاف پینے کا پانی، واش رومز، لیبارٹری اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں، جبکہ خستہ حال عمارتوں کی فوری مرمت کرائی جائے۔
مقامی رہنماؤں اور طلبہ نے مزید مطالبہ کیا کہ بند گرلز مڈل اسکول میں فوری طور پر تدریسی عملہ تعینات کرکے تعلیمی سرگرمیاں بحال کی جائیں تاکہ طالبات سمیت شہر کے بچوں کا تعلیمی مستقبل مزید متاثر ہونے سے بچایا جاسکے۔



