یک نہ شد، دو شد! اے آئی (AI) کے بعد اب اے جی آئی (AGI): آگے کیا ہوگا؟

نہال معظم

ڈیجیٹل دور میں مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے شور شرابے کے بعد اب دنیا بھر میں جس نئی اصطلاح کا سب سے زیادہ چرچا ہے وہ اے جی آئی، یعنی آرٹیفیشل جنرل انٹیلی جنس ہے۔ عام اے آئی عموماً مخصوص کاموں تک محدود ہوتی ہے، لیکن اے جی آئی کا تصور ایسی مشین کا ہے جو انسان کی طرح مختلف شعبوں میں سوچ سکے، نئی چیزیں سیکھ سکے، بدلتے حالات کو سمجھ کر خود کو ان کے مطابق ڈھال سکے اور پیچیدہ مسائل کا حل تلاش کر سکے۔ اگر موجودہ اے آئی اپنی محدود صلاحیتوں کے باوجود دنیا میں اتنی بڑی تبدیلی لا رہی ہے تو سوال یہ ہے کہ جب واقعی انسانی سطح کی عمومی ذہانت رکھنے والی مشین سامنے آئے گی تو دنیا پر اس کے اثرات کتنے بڑے ہوں گے؟

اے جی آئی کے ممکنہ فوائد بھی حیرت انگیز ہیں۔ طبی شعبے میں یہ پیچیدہ بیماریوں کی تشخیص، نئی ادویات کی تیاری اور مریضوں کے علاج میں ڈاکٹروں کی مدد کو کئی گنا تیز کر سکتی ہے۔ سائنس میں ایسے پیچیدہ مسائل حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے جن پر انسان برسوں کام کرتے رہے ہیں۔ صنعت، تعلیم، تحقیق اور کاروبار میں ایسے ذہین نظام بن سکتے ہیں جو انسانی محنت کم کرکے پیداواری صلاحیت میں غیر معمولی اضافہ کر دیں۔ لیکن یہی طاقت ایک بڑا سوال بھی اٹھاتی ہے کہ اگر مشین انسان کے تقریباً ہر ذہنی کام کو کرنے کے قابل ہوگئی تو پھر انسان کا کردار کیا رہ جائے گا؟

اے جی آئی کے آنے یا نہ آنے کی بحث اسی سوال کے گرد گھوم رہی ہے۔ اینویڈیا کے سربراہ اور دنیا کی اے آئی چِپ صنعت کی سب سے بااثر شخصیات میں شمار ہونے والے جنسن ہوانگ نے 2026 میں ایک انٹرویو میں کہا کہ ان کے خیال میں اے جی آئی حاصل ہوچکی ہے۔ ان کا یہ بیان اس لیے اہم ہے کہ اینویڈیا کے گرافکس پروسیسنگ یونٹس دنیا کے جدید اے آئی نظاموں کے بنیادی انفراسٹرکچر میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم خود ہوانگ کے بیان کے باوجود یہ معاملہ طے شدہ نہیں، کیونکہ اے جی آئی کی کوئی ایسی متفقہ سائنسی تعریف موجود نہیں جس کے ذریعے یہ حتمی فیصلہ کیا جاسکے کہ کوئی مشین واقعی انسانی عمومی ذہانت تک پہنچ چکی ہے۔

اسی دعوے پر آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف نیو ساؤتھ ویلز کے معروف اے آئی سائنس دان اور UNSW AI کے چیف سائنٹسٹ پروفیسر ٹوبی والش نے اختلاف کیا۔ والش مصنوعی ذہانت کے عالمی سطح کے محقق ہیں اور اے آئی کے سماجی اثرات اور خطرات پر طویل عرصے سے کام کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر کوئی اے آئی واقعی انسانی ذہانت کی تمام صلاحیتوں تک پہنچ چکی ہے تو انہیں اس پر حیرت ہوگی۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا کہ اگر ایسا کوئی معمولی کام نہ ملا جو ایک آٹھ سالہ بچہ کرسکتا ہو لیکن اے آئی نہ کر سکے تو وہ اپنی ٹوپی کھا لیں گے۔ ان کی بات کا سادہ مطلب یہ ہے کہ اے آئی کا کچھ انتہائی مشکل کام انسان سے بہتر کرلینا اس بات کا ثبوت نہیں کہ وہ ہر طرح کی عام انسانی سمجھ بوجھ بھی حاصل کرچکی ہے۔

یہ اختلاف دراصل اس بنیادی مسئلے کو سامنے لاتا ہے کہ اے جی آئی کو ناپا کیسے جائے؟ اگر ایک مشین ریاضی، پروگرامنگ یا پیچیدہ تحقیق میں انسان سے آگے نکل جائے، لیکن دوسری طرف روزمرہ کی کسی سادہ اور نئی صورتحال کو ایک بچے کی طرح نہ سمجھ سکے، تو کیا اسے انسانی سطح کی عمومی ذہانت کہا جائے گا؟ یہی سوال آج اے جی آئی کی بحث کا سب سے اہم حصہ بن چکا ہے۔

ماہرین کی پیش گوئیاں بھی ایک جیسی نہیں۔ ڈاریو امودے مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اینتھروپک کے سربراہ ہیں۔ انہوں نے 2025 میں اندازہ ظاہر کیا تھا کہ طاقتور اے آئی نظام 2026 یا 2027 تک ایسی صلاحیتیں حاصل کرسکتے ہیں جنہیں آج کی نظر سے انتہائی غیر معمولی سمجھا جائے گا، اور انہوں نے 2030 تک ایسی پیش رفت کے امکان کو تقریباً یقینی قرار دیا تھا۔

دوسری طرف ڈیملس ہاسابیس، گوگل ڈیپ مائنڈ کے شریک بانی اور اے آئی کے معروف محقق، نے بھی اے جی آئی کو بہت دور کی چیز قرار نہیں دیا۔ ان کے مطابق 2030 تک اے جی آئی حاصل ہونے کا تقریباً 50 فیصد امکان موجود ہے۔ تاہم مختلف مواقع پر وہ یہ بھی واضح کرچکے ہیں کہ حقیقی اے جی آئی کے لیے ابھی اہم تکنیکی پیش رفت درکار ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک طرف ٹیکنالوجی کی دنیا کی بعض اہم شخصیات کہہ رہی ہیں کہ اے جی آئی یا تو آچکی ہے یا بہت قریب ہے، جبکہ دوسری طرف سائنس دان اس دعوے کے لیے واضح معیار اور ثبوت کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اطالوی فلسفی اور اے آئی کے معروف مفکر لوسیانو فلوریڈی کی 2026 کی تحقیق نے بھی ماضی کی AGI پیش گوئیوں کا جائزہ لیتے ہوئے دکھایا کہ بہت سی پیش گوئیاں ایسی تھیں جن میں واضح تعریف، پیمائش یا فیصلہ کرنے کا قابلِ عمل معیار ہی موجود نہیں تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ اے جی آئی ابھی بحث کا موضوع ہے، لیکن عام جنریٹو اے آئی کے روزگار پر اثرات پہلے ہی سامنے آچکے ہیں۔ عالمی ادارۂ محنت نے 2025 میں جنریٹو اے آئی اور ملازمتوں پر اپنی تازہ تحقیق جاری کی، جس کے مطابق دنیا بھر میں تقریباً ہر چار میں سے ایک ملازمت کسی نہ کسی درجے میں جنریٹو اے آئی سے متاثر ہوسکتی ہے۔ تاہم ادارے نے یہ بھی واضح کیا کہ ’’متاثر ہونا‘‘ لازماً ملازمت ختم ہونے کے برابر نہیں؛ بہت سے کام مکمل طور پر ختم ہونے کے بجائے ان کی نوعیت تبدیل ہوسکتی ہے۔

عالمی اقتصادی فورم کی Future of Jobs Report 2025 کے مطابق 2030 تک دنیا بھر میں تقریباً 17 کروڑ نئی ملازمتیں پیدا ہوسکتی ہیں، جبکہ 9 کروڑ 20 لاکھ ملازمتیں بے گھر ہوسکتی ہیں، جس کے نتیجے میں مجموعی طور پر تقریباً 7 کروڑ 80 لاکھ ملازمتوں کا اضافہ بنتا ہے۔ لیکن اسی رپورٹ کے مطابق تقریباً 22 فیصد ملازمتیں کسی نہ کسی ساختی تبدیلی سے گزریں گی۔ یعنی اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ کتنی ملازمتیں ختم ہوں گی، بلکہ یہ بھی ہے کہ موجودہ ملازمتوں کے لیے درکار مہارتیں کتنی تیزی سے بدلیں گی۔

یہی وہ مقام ہے جہاں اے جی آئی کی بحث محض ٹیکنالوجی کا موضوع نہیں رہتی بلکہ انسانی مستقبل کا سوال بن جاتی ہے۔ اگر مستقبل میں مشینیں واقعی زیادہ تر ذہنی کام خود انجام دینے لگیں تو روزگار، تعلیم، معیشت اور انسانی مہارتوں کی قدر سب بدل سکتی ہے۔ اس کے ساتھ غلط استعمال، سائبر حملوں، غلط پروگرامنگ اور انتہائی طاقتور خودکار نظاموں پر انسانی کنٹرول کے حوالے سے بھی نئے خطرات پیدا ہوسکتے ہیں۔

لہٰذا 2026 میں یہ حتمی فیصلہ کرنا مشکل ہے کہ اے جی آئی کا دور واقعی آچکا ہے یا ابھی کئی سال باقی ہیں۔ اصل مسئلہ صرف یہ نہیں کہ مشین کتنی ذہین ہوگئی ہے، بلکہ یہ بھی ہے کہ ہم ذہانت کی تعریف کیا رکھتے ہیں اور اسے ناپنے کے لیے کون سا معیار استعمال کرتے ہیں۔ ایک طرف ہوانگ جیسے ٹیکنالوجی رہنما اے جی آئی کی آمد کا اعلان کر رہے ہیں، دوسری طرف والش جیسے ماہرین اس دعوے کو سخت امتحان پر پرکھنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

لیکن ایک حقیقت پر بحث کم ہے: اے آئی کے اثرات مستقبل کا انتظار نہیں کر رہے۔ وہ ہماری ملازمتوں، تعلیم، طب، تحقیق اور روزمرہ زندگی میں پہلے ہی داخل ہوچکے ہیں۔ اب اصل سوال صرف یہ نہیں کہ اے جی آئی کب آئے گی، بلکہ یہ ہے کہ جب مشینیں پہلے سے کہیں زیادہ طاقتور ہوجائیں گی تو انسان اپنی بنائی ہوئی اس غیر معمولی طاقت کو کس حد تک سمجھ، قابو اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کر پائے گا۔

مزید خبریں

Back to top button