سعودی عرب پر حوثیوں کا بڑا وار، آرامکو اور فوجی اڈے کو نشانہ بنانے کا دعویٰ

ریاض(جانو ڈاٹ پی کے) یمن کے حوثی گروپ نے سعودی عرب کے اہم ساحلی شہر ینبع میں سعودی آرامکو کی تیل تنصیبات اور جنوبی شہر خمیس مشیط میں فوجی فضائی اڈے کو میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ دونوں کارروائیاں یمن میں حوثی اہداف کے خلاف سعودی فضائی حملوں کے جواب میں کی گئیں۔ حوثیوں نے دعویٰ کیا کہ سعودی عرب کے خلاف مزید کارروائیاں بھی کی جاسکتی ہیں۔
یحییٰ سریع کے مطابق ینبع میں آرامکو کی تنصیب کو درجنوں بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا اور ان کا دعویٰ ہے کہ بعض میزائل اور ڈرونز اہداف تک پہنچے، جس کے نتیجے میں تنصیبات میں بڑے پیمانے پر آگ بھڑک اٹھی اور نقصان ہوا۔
حوثی ترجمان نے مزید دعویٰ کیا کہ خمیس مشیط کے فوجی فضائی اڈے پر بھی متعدد بیلسٹک میزائل داغے گئے اور وہاں موجود طیاروں کو نقصان پہنچا۔
تاہم سعودی عرب نے ینبع کی آرامکو تنصیبات یا خمیس مشیط ایئربیس پر ان حملوں کی فوری طور پر تصدیق نہیں کی، اس لیے حوثیوں کی جانب سے بیان کردہ نقصان اور اہداف کو آزادانہ طور پر تصدیق شدہ معلومات قرار نہیں دیا جاسکتا۔
یہ دعوے ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب یمن میں سعودی قیادت والے اتحاد اور حوثیوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ حالیہ دنوں میں سعودی عرب کے مختلف علاقوں میں حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جن کے نتیجے میں سعودی حکام کے مطابق بعض شہری زخمی بھی ہوئے۔
اس سے قبل سعودی قیادت والے اتحاد نے کہا تھا کہ سعودی فضائی دفاع نے مکہ مکرمہ کے جنوب میں ایک حوثی ڈرون کو تباہ کردیا، جس کے بارے میں سعودی حکام کا کہنا تھا کہ وہ مقدس شہر کی ممنوعہ فضائی حدود میں داخل ہونے سے پہلے روک لیا گیا۔ حوثیوں نے مکہ کو نشانہ بنانے کی نسبت سے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
خطے میں بڑھتی کشیدگی کے باعث سعودی عرب کی تیل تنصیبات، اہم فوجی مراکز اور بحری راستوں کی سکیورٹی ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔



