نئے صوبوں سے متعلق ریفرنڈم کی باتیں آئین کیخلاف ہیں،نثار کھوڑو کا’’سندھ دھرتی ماں ہے‘‘سیمینار میں خطاب

لاڑکانہ (رپورٹ: احسان جونیجو/نمائندہ جانو ڈاٹ پی کے) پاکستان پیپلز پارٹی سندھ نے ایک بار پھر سے نئے صوبوں کی تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے سندھ کی تقسیم کے خلاف سندھ اسمبلی کی متفقہ قرارداد کی منظوری کے بعد نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کے قیام سے متعلق ریفرنڈم کی باتوں کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اگر نئے صوبوں کے لئے سینیٹ یا قومی اسمبلی سے ممکنہ قرارداد منظور کی گئی تو سندھ اسمبلی سے دوبارہ نئے صوبوں کے خلاف قرارداد منظور کرکے قومی اسمبلی کی قرارداد کو مسترد کیا جائے گا۔ یہ اعلان پاکستان پیپلز پارٹی لاڑکانہ ڈویژن کی جانب سے ’’سندھ دھرتی ماں ہے‘‘ کے عنوان سے لاڑکانہ میں منعقدہ سیمینار سے رہنماؤں کے خطاب اور قراردادوں کی منظوری کے دوران کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ اسمبلی نے متفقہ طور پر سندھ کی تقسیم کے خلاف قرارداد منظور کرکے سندھ میں نئے صوبے کے معاملے کو ختم کر دیا ہےاس لئے نئے صوبوں کے بارے میں قومی اسمبلی اور سینیٹ میں بحث یا ریفرنڈم کی کوئی آئینی حیثیت نہیں ہوگی۔
پیپلزپارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو نے کہا کہ اگر کوئی سندھ کو بری نظر سے دیکھے گا تو سندھ بھرپور ردعمل دے گا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی طاقت سے آمروں کو کالا باغ ڈیم بنانے کی اجازت نہیں دی گئی تو اب سندھ کی تقسیم بھی نہیں ہونے دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جب پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کی جانب سے یہ بیان دیا گیا کہ انہیں پڑوسی صوبوں سے خطرہ ہے تو خیبر پختونخوا کی صوبائی اسمبلی نے پنجاب کی وزیر اعلیٰ کے خلاف آرٹیکل 6 نافذ کرنے کا مطالبہ کیا یہاں اگر کوئی نئے صوبوں کو مسترد کرنے سے متعلق صوبائی اسمبلی کی قرارداد کی بے حرمتی کرے گا تو ہم بھی ان کے خلاف آرٹیکل 6 نافذ کرنے کی بات کریں گے اس لیے ملک کے خلاف سازشیں کرنا بند کی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر سندھ پر اس سے بھی زیادہ برا وقت آیا تو ہمارا ہر کارکن اور سندھ کا ہر شہری سڑکوں پر ہوگا۔ نثار کھوڑو نے کہا کہ وفاقی وزراء سندھ اسمبلی کی منظوری کے بعد نئے صوبوں کی باتیں کرکے آئین کی بے حرمتی کرنا بند کریں۔ سندھ گندم سمیت گیس اور تیل پیدا کرنے والا صوبہ ہے لیکن سندھ کو بدلے میں 50 فیصد حصہ بھی نہیں دیا جا رہا اور اسلام آباد میں بیٹھ کر سندھ پر ظلم کیا جا رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی خودمختاری اور 18ویں ترمیم کے باعث صوبوں کو مضبوط بنایا گیا ہے اور ہم نے صوبائی خودمختاری کے لیے 30 سال انتظار کیا اور بڑی جدوجہد کے بعد صوبائی خودمختاری حاصل کی لیکن اب صوبائی خودمختاری اور 18ویں ترمیم آنکھ کا کانٹا بن کر چبھ رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ نے آمروں کا مقابلہ کیا ہے اور کوئی بھی فیلڈ مارشل سندھ کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ پاک فوج سرحدوں کی حفاظت کر رہی ہے لیکن پھر پاک فوج کو سیاست میں دھکیل کر اس کی عظمت کیوں تباہ کیا جا رہا ہے؟ انہوں نے کہا کہ میں محسن نقوی سے کہتا ہوں کہ وہ کبھی وزیر اعظم نہیں بنیں گے کیونکہ ان کے پاس عوامی حمایت نہیں ہے۔نثار کھوڑو نے کہا کہ 36 صوبے بنانے کی باتیں کرکے پاکستان کے مستقبل سے نہ کھیلیں اگر دوسروں کو ضرورت ہے تو دوسرے صوبے ضرور بنائیں لیکن سندھ کو تقسیم نہیں ہونے دیں گے۔انہوں نے کہا کہ نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کی بات کرنے والے خالد مقبول صدیقی، مصطفیٰ کمال، محسن نقوی اور دیگر کو میں نے جواب دے دیا ہے کہ آپ کون ہوتے ہیں نئے صوبوں کی بات کرنے والے؟ پاکستان پیپلز پارٹی لاڑکانہ ڈویژن کے صدر اور رکن قومی اسمبلی اعجاز جکھرانی نے کہا کہ قائداعظم محمد علی جناح نے ملک بنایا تو انہیں ٹوٹی ہوئی ایمبولینس میں علاج کے لیے زیارت لے جایا گیا اور شہید ذوالفقار علی بھٹو کو جھوٹے مقدمے میں پھانسی دی گئی اور پھر آمر پرویز مشرف کے دور میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو کو شہید کیا گیا یہ تمام سانحات آمریت کے ادوار میں پیش آئے ہیں اور آمریت کے دور میں ملک کی تاریخ میں کسی بھی وزیر اعظم کو اپنی مدت پوری نہیں کرنے دی گئی۔انہوں نے کہا کہ ملک کے مسائل کا حل جمہوریت میں ہے۔ سندھ ایک ہے اور ایک رہے گا، ہم کبھی بھی سندھ کو ٹوٹنے نہیں دیں گے۔سینیٹر بئرسٹر ضمیر گھمرو نے کہا کہ ون یونٹ کے تجربے کے بعد شہید ذوالفقار علی بھٹو نے 1973ء کے آئین میں یہ نقطہ شامل کیا کہ جب تک صوبائی اسمبلیاں دو تہائی اکثریت سے قرارداد منظور نہیں کرتیں اس وقت تک نیا صوبہ نہیں بن سکتا اس لئے قومی اسمبلی اور سینیٹ آئینی طور پر صوبائی اسمبلی کی منظور کردہ قرارداد پر عمل کرنے کی پابند ہیں۔انہوں نے کہا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کو نئے صوبے بنانے کا کوئی اختیار حاصل نہیں۔ اگر قومی اسمبلی یا سینیٹ میں نئے صوبوں کے بارے میں بحث یا ریفرنڈم کرایا گیا تو اس کی کوئی آئینی حیثیت نہیں ہوگی اور یہ جمہوریت اور آئین کی خلاف ورزی ہوگی جسے پیپلز پارٹی قبول نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ 1973ء کے آئین پر عمل نہیں کیا جا رہا اور ہم سمجھتے ہیں کہ نئے صوبوں کے بارے میں آئین کے آرٹیکل 239 کو ختم کرنے اور ریفرنڈم کرانے کی بات کرنے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ ریفرنڈم آئین میں تبدیلی نہیں لا سکتا اور نہ ہی اس کے ذریعے آئین میں یہ ترمیم کی جا سکتی ہے۔انہوں نے کہا کہ صوبوں کو این ایف سی میں زیادہ حصہ دینے کا دعویٰ غلط کیا جا رہا ہے کیونکہ وفاق کی آمدنی 20 ہزار ارب روپے ہے جبکہ وفاقی اخراجات 19 ہزار ارب روپے ہیں اور وفاق صوبوں کو 20 ہزار ارب روپے میں سے ساڑھے پانچ ہزار ارب روپے دے رہا ہے جس میں سے بھی گرانٹ کی صورت میں اڑھائی اڑھائی سو ارب روپے صوبوں سے واپس لیے جا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ وفاق سندھ سے تیل اور گیس کی مد میں 3 ہزار ارب روپے لے رہا ہے لیکن سندھ کو نصف حصہ بھی نہیں دیا جا رہا۔ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے رکن سندھ اسمبلی جمیل احمد سومرو نے کہا کہ لاہور اور اسلام آباد میں بیٹھے پڑھے لکھے جاہلوں کو سندھ کی تاریخ کا علم ہی نہیں۔ سندھ کو ممبئی پریزیڈنسی سے آزاد کراکے صوبے کی حیثیت دلائی گئی اور جب 1947ء میں ملک قائم ہوا تو سندھ اسمبلی ہی نے ملک بنانے کی قرارداد منظور کی۔ سندھ ہی ملک کی ماں ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب صوبوں کی حیثیت ختم کرکے ون یونٹ نافذ کیا گیا تو بڑی جدوجہد کے بعد ون یونٹ ختم کرایا گیا۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو نے ملک کو آئین دیا، لیکن آمروں نے اس آئین کی شکل بھی تبدیل کی اور سندھ نے آمریت کے خلاف جدوجہد کی۔انہوں نے کہا کہ تاجروں کی تقریب میں صوبے بنانے کا شور مچایا گیا۔ کیا یہ تاجر صوبے بنائیں گے؟انہوں نے کہا کہ ہم وفاقی نظام چاہتے ہیں، لیکن سندھ دھرتی ماں سب سے اہم ہے۔ سندھ دھرتی ماں کے لیے ایک ایک شخص نکلے گا اور سندھ اسمبلی نئے صوبوں کے خلاف قرارداد منظور کرکے فیصلہ دے چکی ہے کہ سندھ کی تقسیم نامنظور ہے۔رکن قومی اسمبلی نفیسہ شاہ نے کہا کہ سندھ ہی ہر آئینی فورم پر سندھ کی وحدت کا مقدمہ لڑتا رہا ہے جو لوگ انتظامی یونٹس کی بات کر رہے ہیں انہیں معلوم ہونا چاہیے کہ ڈویژنوں اور اضلاع سمیت نچلی سطح پر انتظامی یونٹس پہلے ہی موجود ہیں اس لیے انتظامی یونٹس کی بحث ہی فضول ہے۔انہوں نے کہا کہ جو لوگ کرکٹ نہیں سنبھال سکتے اور امن و امان بہتر نہیں کر سکتے وہ ملک میں نئے صوبوں کی باتیں کر رہے ہیں۔ بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے حالات سب کے سامنے ہیں اس وزیر نے کبھی امن و امان کے بارے میں پارلیمنٹ میں بات نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ اب صوبوں کے پیسوں پر نظر ہے اور سندھ نے این ایف سی کا تحفظ کیا ہے۔ کرائے کے بجلی گھروں کو چلانے اور لاہور میں اورنج لائن کے لیے قرضے لیے گئے، تو یہ قرضے صوبے کیوں اتاریں؟ صوبوں نے یہ قرض اتارنے کا کیا جرم کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ ملک کو آئین کے تحت چلایا جائے اور صوبوں کو آئینی حقوق دیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر آئین کے آرٹیکل 239 کی شق 4 کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو سندھ میں بھی حالات بلوچستان سے خراب ہو جائیں گے۔ ضلع کونسل کمشور کے صدرگل محمد جکرا نی نے کہا کہ صوبے خودمختار ہیں اس لیے صوبوں کو توڑنے والے یہ لوگ کون ہوتے ہیں؟ ماضی میں صوبوں کو ختم کرکے کہا گیا کہ ملک مضبوط ہوگا اور اب صوبوں کو توڑ کر ملک مضبوط کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں، جو سراسر غلط منطق ہے۔ یہی عناصر ملک کو توڑنا چاہتے ہیں۔رکن قومی اسمبلی خورشید احمد جونیجو نے کہا کہ سندھ نے ملک بنایا اور ہم سندھ کو کسی بھی صورت توڑنے نہیں دیں گے۔انہوں نے کہا کہ نظام کو سیاست دانوں نے نہیں بلکہ طاقتور عناصر نے تباہ کیا ہے۔ ملک پر 83 کھرب روپے کا قرض ہے اور ایسی صورتحال میں نئے صوبے بنانے کی بات کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر آئین کے آرٹیکل 239 کی شق 4 کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی تو سندھ میں بھی حالات بلوچستان سے خراب ہو جائیں گے۔سیمینار سے پاکستان پیپلز پارٹی لاڑکانہ ڈویژن کے جنرل سیکریٹری عبدالفتاح بھٹو، خیر محمد شیخ اور صحافی نثار کھوکر نے بھی خطاب کیا۔سیمینار میں پیپلز پارٹی سندھ کے صدر کے ترجمان کی جانب سے مختلف قراردادیں پیش کی گئیں جنہیں متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ایک قرارداد میں نئے صوبوں کی تجویز کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ ملک پر قرضوں کا بوجھ اور موجودہ وسائل کی صورتحال میں ملک نئے صوبوں کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتا اس لیے ملک کو تجربہ گاہ بنانا بند کیا جائے۔ایک اور قرارداد میں کہا گیا کہ ہم سمجھتے ہیں کہ نئے صوبوں کا شوشہ چھوڑ کر این ایف سی ایوارڈ، صوبائی خودمختاری اور 18ویں ترمیم کو نشانہ بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پیپلز پارٹی 18ویں ترمیم، این ایف سی ایوارڈ اور صوبائی خودمختاری کے خلاف سازشوں کو ناکام بنائے گی۔ قرارداد میں مزید کہا گیا کہ سندھ اسمبلی کی جانب سے صوبوں کی حدود میں تبدیلی اور صوبے کی تقسیم کو مسترد کرنے کی قرارداد کی منظوری کے باوجود وفاقی وزراء کی جانب سے نئے صوبوں کے بارے میں ریفرنڈم کی باتیں آئین کے خلاف ہیں کیونکہ آئین کے تحت نئے صوبوں کا اختیار صرف صوبائی اسمبلی کو حاصل ہے اس لیے وفاقی وزراء نئے صوبوں کا راگ الاپنا بند کریں۔ایک اور قرارداد میں وفاقی حکومت کو خبردار کرتے ہوئے کہا گیا کہ اگر وفاقی حکومت قومی اسمبلی یا سینیٹ سے نئے صوبوں کی حمایت میں قرارداد منظور کرے گی تو سندھ اسمبلی دوبارہ نئے صوبوں کے خلاف قرارداد منظور کرکے قومی اسمبلی کی اس قرارداد کو مسترد کر دے گی۔ایک اور قرارداد میں کہا گیا کہ اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کے نام پر نیا صوبہ کسی بھی صورت قبول نہیں اور سندھ کے بلدیاتی نظام پر تنقید کرنے والے پہلے پنجاب، خیبر پختونخوا اور اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کرا کے دکھائیں۔



