عمران خان کی اسپتال منتقلی کیس، آئینی عدالت کے دائرہ اختیار پر اٹارنی جنرل سے معاونت طلب، سماعت 3 ہفتوں کیلئے ملتوی

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) بانی پی ٹی آئی عمران خان کی اسپتال منتقلی سے متعلق کیس میں سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل کو فوری طلب کرتے ہوئے وفاقی آئینی عدالت کے دائرہ اختیار سے متعلق معاونت طلب کرلی۔
جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی۔ دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل رانا اسد نے عدالت کو بتایا کہ وفاقی آئینی عدالت نے گزشتہ روز حکم نامہ جاری کرتے ہوئے مقدمے کا ریکارڈ طلب کیا ہے۔
جسٹس شاہد وحید نے استفسار کیا کہ وفاقی آئینی عدالت اس کیس کی سماعت کس اختیار کے تحت کرسکتی ہے؟ انہوں نے کہا کہ عدالت یہ سمجھنا چاہتی ہے کہ آئینی عدالت مقدمات کا ریکارڈ طلب کرکے انہیں سماعت کے لیے کیسے مقرر کرسکتی ہے۔
عدالت نے ریمارکس دیے کہ وفاقی آئینی عدالت آئین کی تشریح کرسکتی ہے، جبکہ قرآن و سنت سے متعلق معاملات میں اس کے دائرہ اختیار کا سوال بھی سامنے آتا ہے۔ اٹارنی جنرل نے مؤقف اختیار کیا کہ آئین کے تحت وفاقی آئینی عدالت مقدمات کا ریکارڈ طلب کرسکتی ہے۔
سماعت کے دوران جسٹس شاہد وحید نے 18 اگست کے عدالتی حکم پر عملدرآمد سے متعلق بھی سوالات اٹھائے۔ انہوں نے دریافت کیا کہ سرکاری افسران کی طلبی کے باوجود پیش نہ ہونا کیا عدالتی حکم کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتا ہے اور کیا عمران خان کی ملاقاتوں سمیت دیگر ہدایات پر عمل کیا گیا۔
جسٹس شاہد وحید نے اڈیالہ جیل انتظامیہ کی عدم پیشی کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جیل سپرنٹنڈنٹ کو ذاتی حیثیت میں طلب کیا گیا تھا اور عدالتی حکم کی خلاف ورزی ہوئی ہے۔ عدالت نے استفسار کیا کہ کیا جیل سپرنٹنڈنٹ کے وارنٹ جاری کیے جائیں؟ اٹارنی جنرل نے عدالت سے ایک موقع دینے کی استدعا کی۔
عدالت نے یہ بھی ریمارکس دیے کہ عدلیہ کے درمیان باہمی احترام ضروری ہے اور سوالات کا مقصد کسی منفی تاثر کو جنم دینا نہیں بلکہ آئینی صورتحال کو سمجھنا ہے۔
اٹارنی جنرل منصور اعوان نے عدالت کو بتایا کہ سپریم کورٹ اور وفاقی آئینی عدالت کے دائرہ اختیار آئین میں واضح ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آئینی عدالت کی جانب سے ریکارڈ طلب کرنے اور مقدمات سماعت کے لیے مقرر کرنے کے معاملے کی آئینی حیثیت پر غور ضروری ہے۔
سپریم کورٹ نے اٹارنی جنرل سے معاونت طلب کرتے ہوئے کہا کہ وفاقی آئینی عدالت کے حکم میں مقدمات کو سماعت کے لیے مقرر کرنے کا ذکر ہے، اس اقدام کے قانونی نتائج کیا ہوں گے، اس حوالے سے عدالت کی معاونت کی جائے۔
بعد ازاں اٹارنی جنرل نے کیس کی سماعت 3 ہفتوں کے لیے مؤخر کرنے کی استدعا کی، جسے سپریم کورٹ نے منظور کرتے ہوئے سماعت 3 ہفتوں کے لیے ملتوی کردی۔



