ایرانی ریال تاریخ کی نئی کم ترین سطح پر، ایک ڈالر 22 لاکھ ریال سے بھی مہنگا ہوگیا

تہران(ویب ڈیسک) ایرانی کرنسی ریال کی قدر میں تیزی سے کمی کا سلسلہ جاری ہے اور امریکی ڈالر کے مقابلے میں ریال کی قیمت 22 لاکھ ریال فی ڈالر سے تجاوز کرگئی، جو ایرانی کرنسی کی تاریخ کی نئی کم ترین سطح قرار دی جارہی ہے۔
کرنسی کی آزاد مارکیٹ کے نرخوں پر نظر رکھنے والی ویب سائٹس کے مطابق ایرانی ریال نے صرف گزشتہ ایک ہفتے کے دوران تقریباً 10 فیصد قدر کھو دی، جبکہ گزشتہ ایک سال کے دوران ریال کی قدر میں تقریباً 50 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
رواں سال مارچ میں ایرانی نئے سال کے آغاز پر ایک امریکی ڈالر تقریباً 13 لاکھ 50 ہزار ریال میں دستیاب تھا، تاہم اب ڈالر کی قیمت 22 لاکھ ریال سے تجاوز کرچکی ہے، جس سے چند ماہ کے دوران ایرانی کرنسی کی شدید گراوٹ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
ریال کی قدر میں کمی صرف ڈالر تک محدود نہیں، آزاد مارکیٹ میں ایک یورو تقریباً 25 لاکھ 50 ہزار ریال جبکہ برطانوی پاؤنڈ تقریباً 29 لاکھ 76 ہزار ریال تک پہنچ گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق ایرانی کرنسی پر دباؤ کی بڑی وجوہات میں امریکی پابندیوں میں سختی، ملکی معاشی مشکلات اور امریکا و اسرائیل کے ساتھ بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی شامل ہیں۔
رائٹرز کے مطابق گزشتہ ایک سال کے دوران امریکی پابندیوں کے دباؤ اور فروری میں شروع ہونے والے امریکا اور اسرائیل کے حملوں کے بعد ریال کی قدر میں تقریباً نصف کمی واقع ہوئی ہے۔
حالیہ دنوں میں خطے میں دوبارہ بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی نے بھی ایرانی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا کردی ہے۔ سرمایہ کار اور عام شہری اپنی بچت ریال کے بجائے ڈالر، سونے اور دیگر سخت اثاثوں میں منتقل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، جس سے مقامی کرنسی پر مزید دباؤ بڑھتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی حکام کا مؤقف ہے کہ ملک کے پاس ضروری زرمبادلہ موجود ہے۔ ایرانی مرکزی بینک کے گورنر نے حالیہ کرنسی بحران کے دوران 2 ارب ڈالر کے زرمبادلہ کی فراہمی کا عندیہ بھی دیا ہے، تاہم آزاد مارکیٹ میں ریال کی قدر میں گراوٹ تاحال جاری ہے۔
ایرانی عوام پہلے ہی مہنگائی کے شدید دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ ریال کی مزید کمزوری سے شہریوں کی خریداری کی طاقت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔ ایرانی حکام بھی اعتراف کرچکے ہیں کہ بلند افراطِ زر نے عوام کے معاش پر شدید دباؤ ڈالا ہے۔



