وسطی افریقی جمہوریہ میں غیر قانونی سونے کی کان بیٹھ گئی، 100 افراد ہلاک

بنگوئی(مانیٹرنگ ڈیسک) وسطی افریقی جمہوریہ میں کیمرون کی سرحد کے قریب سونے کی ایک غیر قانونی کان زمین بوس ہونے کے نتیجے میں کم از کم 100 افراد ہلاک ہوگئے۔

مقامی حکام اور امدادی ذرائع کے مطابق افسوسناک حادثہ بابوا قصبے سے تقریباً 50 کلومیٹر دور زامبوئے کان کنی کے مقام پر پیش آیا، جہاں اچانک تودہ گرنے سے درجنوں افراد مٹی تلے دب گئے۔

حادثے کے فوری بعد مقامی رہائشیوں اور امدادی ٹیموں نے اپنی مدد آپ کے تحت ملبہ ہٹانے اور دبے ہوئے افراد کو نکالنے کا کام شروع کردیا۔

نانا مامبیرے کے نائب میئر سلیمان بی کے مطابق حادثے کے چند گھنٹوں کے اندر 30 لاشیں نکالی جاچکی تھیں، جبکہ متعدد زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی گئی۔ انہوں نے صورتحال کو دل دہلا دینے والا قرار دیتے ہوئے عالمی تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں سے فوری امداد کی اپیل کی۔

زامبوئے میں کام کرنے والے ایک کان کن سیڈرک مبانگو نے حادثے کو تباہ کن قرار دیتے ہوئے بتایا کہ زمین اچانک بیٹھ گئی اور متعدد افراد مٹی تلے دب گئے۔ ان کے مطابق اب بھی کئی افراد ملبے تلے موجود ہیں اور ریسکیو آپریشن جاری ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ملبے کی بڑی مقدار اور جائے حادثہ کے دشوار گزار ہونے کے باعث ہلاکتوں کی حتمی تعداد کا فوری تعین مشکل ہے۔ مقامی اہلکار لورینٹ نگون بابا کے مطابق حادثے کے نقصانات کا مکمل اندازہ لگایا جا رہا ہے۔

حکومتی ترجمان ایوارسٹے نگامانا نے متاثرہ خاندانوں سے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی ادارے متاثرین کو ہر ممکن ریلیف اور امداد فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

وسطی افریقی جمہوریہ میں غیر قانونی اور غیر محفوظ کان کنی ایک سنگین مسئلہ ہے۔ ہزاروں افراد جدید حفاظتی آلات اور سرکاری نگرانی کے بغیر چھوٹے پیمانے پر سونے اور دیگر معدنیات کی تلاش میں مصروف ہیں، جس کے باعث ایسے جان لیوا حادثات پیش آتے رہتے ہیں۔

مزید خبریں

Back to top button