لندن اتھارٹیز کا 100 سال پرانی قبروں کے دوبارہ استعمال کا مشورہ

لندن(جانوڈاٹ پی کے)مئیر لندن کے آفس سٹی ہال کی جانب سے کیے گئے ایک جائزے میں انکشاف ہوا ہے کہ لندن کی متعدد کونسلوں کے پاس مُردوں کی تدفین کے لیے جگہ تیزی سے کم ہوتی جا رہی ہے۔
جائزے کے مطابق 3 کونسلوں کیمڈن، ہیکنی اور ٹاور ہیملٹس کے پاس پہلے ہی تدفین کے لیے کوئی جگہ باقی نہیں بچی ہے، 2040 تک لندن کی 17 مقامی کونسلوں کے علاقوں میں تدفین کے لیے مزید جگہ دستیاب نہیں ہوگی۔
گریٹر لندن اتھارٹی کے حکام نے مقامی اتھارٹیز کو مشورہ دیا ہے کہ 100 سال سے زیادہ پرانی قبروں کو دوبارہ استعمال کیا جائے اور قبروں کی گہرائی میں اضافہ کیا جائے تاکہ ایک ہی جگہ پر متعدد تدفین ممکن ہو سکے۔
قومی شماریاتی ادارے کے مطابق لندن کی آبادی عمر رسیدہ ہو رہی ہے اور 2040 تک لندن میں 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد کا تناسب 40 فیصد سے کچھ زیادہ ہونے کی پیشگوئی کی گئی ہے۔
سٹی ہال کے مجوزہ لندن پلان میں کونسلوں کو بتایا گیا کہ انہیں تدفین کی اضافی گنجائش پیدا کرنے کے لیے کم معیار کی گرین بیلٹ زمین جسے ’گرے بیلٹ‘ کہا جاتا ہے، استعمال کرنے پر غور کرنا پڑ سکتا ہے۔
لندن اسمبلی کی لبرل ڈیموکریٹ رکن حنا بخاری نے اسے ایک حقیقی بحران کا نقطہ آغاز قرار دیا اور کہا کہ اس جائزے نے یہ بات بالکل واضح کر دی ہے کہ پورے لندن کے لیے ایک جامع اور مشترکہ حکمتِ عملی اور منصوبہ ہونا چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کے ساتھ عملی اقدامات بھی ہونے چاہئیں، اگر 15 سال بعد 20 کونسلوں میں تدفین کے لیے کوئی جگہ نہ ہوئی تو پھر کیا ہوگا؟ یہ کام ابھی ہونا چاہیے کیونکہ 15 سال بہت تیزی سے گزر جائیں گے، ایک وقت ایسا آئے گا جب یہ مسئلہ اتنا عام اور سنگین ہو جائے گا کہ اسے نظر انداز کرنا ممکن نہیں ہوگا۔
لندن کے میئر کے ترجمان نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ مجوزہ لندن پلان میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ کونسلوں کو تدفین کی جگہوں میں توسیع، موجودہ قبرستانوں کے دوبارہ استعمال اور طویل مدتی بنیادوں پر تدفین کی جگہ کی فراہمی کے لیے فعال اور باہمی تعاون کے ساتھ منصوبہ بندی کرنی چاہیے، اس عمل میں یہ بھی ضروری ہے کہ مختلف ثقافتی اور مذہبی برادریوں کی ضروریات کو مدِنظر رکھا جائے۔



