عالمی غذائی قیمتوں میں تیزی،ایف اے او نےخوراک کےنئے بحران سےخبردارکردیا

نیویارک (سپیشل رپورٹ:جانوڈاٹ پی کے) اقوام متحدہ کے ادارۂ خوراک و زراعت نے خبردار کیا ہے کہ عالمی سطح پر غذائی اشیا کی قیمتوں میں ایک بار پھر نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جس کے اثرات آنے والے مہینوں میں دنیا بھر کے صارفین تک پہنچنے کا خدشہ ہے۔ ادارے کی تازہ رپورٹ کے مطابق جولائی 2026 میں عالمی غذائی قیمتوں کا اشاریہ بڑھ کر 131.1 پوائنٹس تک پہنچ گیا، جو جنوری 2023 کے بعد بلند ترین سطح ہے۔
رپورٹ کے مطابق عالمی منڈی میں چینی، گندم، خوردنی تیل اور دیگر بنیادی غذائی اجناس کی قیمتوں میں اضافے کی بڑی وجوہات شدید موسمی حالات، جنگی کشیدگی، سپلائی چین میں رکاوٹیں اور توانائی سے متعلق نئی پالیسیاں ہیں۔
چینی اور گندم کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ
ایف اے او کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ جولائی کے دوران چینی کی عالمی قیمت میں 5.6 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ اناج کی قیمتوں میں مجموعی طور پر 3.4 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ صرف گندم کی قیمتیں 5.8 فیصد بڑھ گئیں، جس سے عالمی منڈی میں خوراک مزید مہنگی ہونے لگی۔ماہرین کے مطابق یہ اضافہ صرف عارضی نہیں بلکہ متعدد عالمی عوامل کا نتیجہ ہے، جو مستقبل میں بھی قیمتوں کو متاثر کر سکتے ہیں۔
یورپ کی تاریخی ہیٹ ویو نے فصلیں تباہ کر دیں
رپورٹ کے مطابق یورپ میں جون کے دوران آنے والی تاریخی ہیٹ ویو نے زرعی شعبے کو شدید نقصان پہنچایا۔ شدید گرمی کے باعث تقریباً 90 لاکھ ٹن گندم، جو، مکئی اور جئی سمیت مختلف فصلیں تباہ ہو گئیں، جس سے عالمی سطح پر اناج کی سپلائی متاثر ہوئی اور قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا۔
اس کے علاوہ دنیا کے دیگر بڑے زرعی ممالک میں بھی شدید گرمی کی لہروں نے گندم کی پیداوار کو متاثر کیا، جس کے باعث عالمی مارکیٹ میں طلب اور رسد کا توازن مزید خراب ہو گیا۔
روس۔یوکرین کشیدگی نے سپلائی چین متاثر کر دی
ایف اے او کے مطابق روس اور یوکرین کے درمیان جاری کشیدگی بھی عالمی غذائی بحران کی ایک اہم وجہ بن رہی ہے۔ بحیرہ اسود کے راستے اناج کی برآمدات میں رکاوٹیں، بندرگاہی ڈھانچے کو نقصان اور شپنگ کے مسائل نے عالمی منڈی میں غذائی اجناس کی فراہمی کو محدود کر دیا، جس سے قیمتوں میں مزید اضافہ ہوا۔
ایل نینو اور برازیل کی پالیسیوں کا بھی اثر
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یورپی یونین میں مسلسل گرم اور خشک موسم، شدت اختیار کرتے ایل نینو کے خدشات اور برازیل میں پٹرول میں ایتھنول کی ملاوٹ بڑھانے کے نئے ضوابط نے چینی کی عالمی طلب میں اضافہ کیا، جس کے نتیجے میں قیمتیں مزید اوپر چلی گئیں۔
اسی طرح خوردنی تیل کی قیمتوں میں 2 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس کی بڑی وجہ انڈونیشیا میں بائیو ڈیزل کی بڑھتی ہوئی طلب اور خام تیل کی بلند قیمتیں ہیں۔
آبنائے ہرمز اور کھاد کی ترسیل پر خدشات
ایف اے او نے اپنی رپورٹ میں ایران سے متعلق علاقائی کشیدگی کا بھی حوالہ دیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا کی تقریباً ایک تہائی کھاد کی ترسیل آبنائے ہرمز سے گزرتی ہے۔ اس اہم بحری راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ کھاد کی عالمی سپلائی اور قیمتوں پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے، جس سے زرعی پیداوار کی لاگت میں مزید اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔
گوشت اور دودھ کی مصنوعات سستی ہوئیں
اگرچہ بیشتر غذائی اشیا مہنگی ہوئیں، تاہم رپورٹ کے مطابق گوشت کی عالمی قیمتوں میں 2.8 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جو رواں سال کی پہلی ماہانہ کمی ہے۔ مرغی، سور اور گائے کے گوشت کی قیمتیں بھی کم ہوئیں، تاہم شدید گرمی کے باعث مویشیوں کی افزائش متاثر ہونے سے اس کمی کی رفتار محدود رہی۔
اسی طرح دودھ اور دودھ سے تیار ہونے والی مصنوعات کی قیمتوں میں 0.7 فیصد کمی دیکھی گئی، جس کی بنیادی وجہ مکھن اور دودھ کے پاؤڈر کی قیمتوں میں کمی قرار دی گئی۔
صارفین پر مہنگائی کا نیا دباؤ
ایف اے او نے خبردار کیا ہے کہ خام غذائی اجناس کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے اثرات جلد ہی عام صارفین تک بھی منتقل ہوں گے، کیونکہ درآمد کنندگان، سپلائرز اور ریٹیلرز اپنی بڑھتی ہوئی لاگت کو خوردہ قیمتوں میں شامل کریں گے۔ اس کے نتیجے میں کئی ممالک میں خوراک کی مہنگائی مزید بڑھنے کا امکان ہے۔
غذائی قلت کا خطرہ مزید بڑھ گیا
دوسری جانب اقوام متحدہ کے عالمی خوراک پروگرام (WFP) نے بھی خبردار کیا ہے کہ ایل نینو کے ممکنہ اثرات کے باعث آئندہ سال کے اختتام تک مزید 5 کروڑ افراد شدید غذائی قلت اور بھوک کا شکار ہو سکتے ہیں۔ ادارے کے مطابق اگر موسمی تبدیلی، جنگی تنازعات اور سپلائی چین کے مسائل برقرار رہے تو پہلے ہی متاثرہ غریب ممالک میں خوراک کا بحران مزید سنگین صورت اختیار کر سکتا ہے۔
عالمی منظرنامہ
ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی، جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور توانائی کی بلند قیمتیں عالمی غذائی تحفظ کے لیے مسلسل خطرہ بنتی جا رہی ہیں۔ ایسے میں حکومتوں، بین الاقوامی اداروں اور زرعی شعبے کو مشترکہ حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی تاکہ غذائی سپلائی کو مستحکم رکھا جا سکے اور دنیا بھر میں خوراک کی بڑھتی قیمتوں کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔



