ایران رجیم چینج میں ناکامی پر موساد سربراہ نے 2 سینئر افسران کو عہدوں سے ہٹا دیا

تل ابیب(جانوڈاٹ پی کے)اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے نئے سربراہ رومن گوفمان نے ایران میں حکومت کی تبدیلی کے ناکام منصوبے سے وابستہ دو انتہائی سینئر افسران کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا۔
اسرائیلی ٹی وی چینل 12 کی رپورٹ کے مطابق یہ دونوں افسران اس منصوبے کی تیاری اور اس پر عمل درآمد کی حکمت عملی بنانے میں مرکزی کردار ادا کر رہے تھے۔
ایک افسر گزشتہ دسمبر سے موساد کے انٹیلی جنس ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ تھے جبکہ دوسرا ادارے کے ایران ڈویژن کی قیادت کر رہا تھا۔
منصوبہ کیا تھا؟
چینل 12 کے مطابق دونوں افسران نے ایک تحریری آپریشنل منصوبہ تیار کیا تھا جس کا مقصد ایران کی اسلامی حکومت کا خاتمہ کرنا تھا۔ اس منصوبے میں ایران کی نسلی و لسانی اقلیتوں، بالخصوص کرد گروہوں کی مدد سے حکومت مخالف تحریک کو دوبارہ زندہ کرنے اور ملک گیر احتجاج کے ذریعے حکومت گرانے کی حکمت عملی شامل تھی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس منصوبے پر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے بھی غور کیا تھا اور فروری میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے خلاف جنگ پر آمادہ کرنے کی کوششوں کے دوران اس کا ذکر کیا گیا تھا۔
کرد محاذ منصوبے کا مرکزی حصہ تھا
اسرائیلی چینل کی رپورٹ کے مطابق منصوبے کے تحت اسرائیل کو ایران اور عراق کی سرحد کے قریب، خصوصاً ایرانی کردستان میں پاسداران انقلاب کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کرنے تھے۔
ان حملوں کا مقصد کرد جنگجوؤں کے لیے ایران میں داخل ہونے کا راستہ ہموار کرنا تھا تاکہ وہ شمال مغربی ایران کے کرد اکثریتی شہروں تک پہنچ سکیں۔
موساد کی توقع تھی کہ ہزاروں نوجوان کرد ان جنگجوؤں کے ساتھ شامل ہو جائیں گے جس کے نتیجے میں ایک وسیع عوامی تحریک جنم لے گی جو بالآخر تہران تک پہنچ سکتی ہے۔
منصوبہ سازوں کا خیال تھا کہ اس کے بعد ملک بھر میں لاکھوں افراد حکومت مخالف مظاہروں میں شریک ہوں گے اور یوں ایرانی حکومت کا خاتمہ ممکن ہوسکے گا۔
احمدی نژاد کو دوبارہ اقتدار میں لانے کی تجویز
رپورٹ میں ایک اور حیران کن دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ اس منصوبے میں سابق ایرانی صدر محمود احمدی نژاد کو دوبارہ ایران کی قیادت سونپنے کی تجویز بھی شامل تھی۔
گزشتہ ماہ نیویارک ٹائمز نے بھی رپورٹ کیا تھا کہ اسرائیل نے کئی برسوں تک احمدی نژاد سے رابطے بڑھانے کی کوشش کی۔
رپورٹ کے مطابق اس سلسلے میں سابق موساد سربراہ ڈیوڈ برنیا کی ہنگری میں ایک علمی کانفرنس کے موقع پر احمدی نژاد سے ملاقات بھی ہوئی تھی، تاہم احمدی نژاد کے دفتر نے اس خبر کی سختی سے تردید کی تھی۔
جنگ کے آغاز میں منصوبے پر جزوی عمل؟
چینل 12 کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ کے ابتدائی مرحلے میں اسرائیل اور امریکا نے ایران کے شمال مغربی علاقوں میں سکیورٹی اداروں، فوجی اڈوں، میزائل تنصیبات، پولیس مراکز اور بسیج کے ٹھکانوں پر شدید حملے کیے تھے تاکہ کرد جنگجوؤں کی پیش قدمی آسان بنائی جا سکے۔
تاہم رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کی تفصیلات میڈیا میں لیک ہونے، ترکی کی سفارتی مداخلت اور خود کرد گروہوں کی ہچکچاہٹ کے باعث امریکہ نے بالآخر اس منصوبے کی حمایت واپس لے لی۔
موساد میں اختلافات
تاہم چینل 12 نے سیکیورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ نئے موساد سربراہ رومن گوفمان اور ان دونوں سینئر افسران کے درمیان ابتدا ہی سے اختلافات موجود تھے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں افسران کی برطرفی نہیں کی گئی بلکہ باہمی رضامندی سے انہیں ان کے موجودہ عہدوں سے ہٹایا گیا ہے۔ موساد میں جاری وسیع تنظیمی اصلاحات کے تحت دونوں کو ادارے کے اندر دیگر ذمہ داریاں دی جائیں گی۔
امریکی حکام کا ردعمل
رپورٹ کے مطابق بعد ازاں امریکی سی آئی اے کے سربراہ اور وزیر خارجہ نے نیتن یاہو کے اس مؤقف کو کہ ایران میں حکومت کا خاتمہ قریب ہے مضحکہ خیز اور بکواس قرار دیا تھا۔
اس کے باوجود نیویارک ٹائمز نے اپریل میں رپورٹ کیا تھا کہ صدر ٹرمپ اور ان کے کئی مشیر اس بات پر قائل ہو گئے تھے کہ ایران کی موجودہ قیادت کو ہٹایا جا سکتا ہے اور اس کے فوجی ڈھانچے کو شدید نقصان پہنچانا ممکن ہے۔
آزادانہ تصدیق نہیں
چینل 12 اور نیویارک ٹائمز کی رپورٹس میں کیے گئے متعدد دعووں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
اسرائیلی حکومت، موساد اور ایرانی حکام نے ان رپورٹس کے بیشتر نکات پر باضابطہ تبصرہ نہیں کیا، تاہم یہ اطلاعات ایسے وقت سامنے آئی ہیں جب ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی کے بعد خطے میں سکیورٹی اور انٹیلی جنس سرگرمیوں پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔



