آبنائے ہرمز سے امریکی و اسرائیلی جہازوں پر پابندی،ایرانی پارلیمان میں نئے قانون کی تیاری

تہران(جانوڈاٹ پی کے)ایران کی پارلیمنٹ میں ایک نیا قانون تیار کیا جا رہا ہے جس کے تحت ایران کے بقول دشمن ممالک جیسے امریکا، اسرائیل اور دیگر سے تعلق رکھنے والے بحری جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے سے روکا جا سکے گا۔
ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق یہ بل اس وقت پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیشن میں زیر غور ہے۔ مجوزہ قانون میں خلاف ورزی کرنے والے جہازوں پر بھاری جرمانے عائد کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔
ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ یہ اقدام آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی سے متعلق ایران اور عمان کے درمیان جاری مذاکرات سے الگ ایک قانون سازی کا عمل ہے۔
کن جہازوں پر پابندی ہوگی؟
ایران کے نزدیک دشمن ممالک قرار دیے جانے والے دیگر ممالک کے جہاز آبنائے ہرمز سے نہیں گزر سکیں گے۔ اسرائیل سے منسلک فوجی یا سول سامان لے جانے والے جہازوں پر بھی پابندی ہوگی۔
علاوہ ازیں ایسے بحری جہاز بھی گزرنے کے مجاز نہیں ہوں گے جو ایران یا اس کے اتحادی گروہوں کے خلاف کارروائیوں میں ملوث رہے ہوں۔
فارس نیوز کی رپورٹ کے مطابق ان ممالک یا افراد سے منسلک جہاز بھی پابندی کی زد میں آئیں گے جنھیں ایران اپنی سلامتی یا مفادات کو نقصان پہنچانے کا ذمہ دار سمجھتا ہے۔
ایسے جہاز اس وقت تک آبنائے ہرمز استعمال نہیں کر سکیں گے جب تک ایران کے مطابق ہونے والے نقصان کا ازالہ یا معاوضہ ادا نہ کیا جائے۔
خلاف ورزی پر بھاری جرمانے
بل میں تجویز دی گئی ہے کہ اگر کوئی جہاز ان پابندیوں کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس پر اس کے کارگو کی مجموعی مالیت کے 20 فیصد تک جرمانہ عائد کیا جا سکے گا۔
بل ابھی حتمی نہیں
ایرانی رکن پارلیمنٹ علیرضا سلیمی نے بتایا کہ بل ابھی ماہرین کی جانچ کے مرحلے میں ہے اور پارلیمنٹ نے قانونی، بحری اور سلامتی کے ماہرین سے تجاویز طلب کی ہیں۔ ان سفارشات کی روشنی میں مسودے میں مزید تبدیلیاں کی جا سکتی ہیں، جس کے بعد اسے پارلیمنٹ میں منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔
قانون سازی کا پس منظر
اس قانون کی تیاری کا اعلان پہلی بار مارچ 2026 میں ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم نے کیا تھا۔ بعد ازاں اپریل میں ابتدائی مسودہ سامنے آیا جس میں صرف ایران کے مخالف ممالک کے جہازوں پر پابندی کی تجویز تھی اور بعض استثنیٰ بھی شامل تھے۔
فارس نیوز کے مطابق تازہ ترین مسودے میں پابندیوں کا دائرہ مزید وسیع کر دیا گیا ہے۔ اب نہ صرف مخصوص ممالک کے بحری جہاز بلکہ ان سے منسلک کارگو اور دیگر بحری سرگرمیوں کو بھی قانون کے دائرے میں شامل کیا گیا ہے۔
اگر یہ قانون موجودہ شکل میں منظور ہو جاتا ہے تو امریکا، اسرائیل اور ان کے اتحادی ممالک کے ساتھ ایران کے تعلقات میں مزید تناؤ پیدا ہونے کا خدشہ ہے جبکہ عالمی توانائی کی ترسیل اور بین الاقوامی بحری تجارت بھی متاثر ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب ایران اور عمان کے درمیان آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی کے نئے انتظام سے متعلق مذاکرات بھی جاری ہیں تاہم ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ پارلیمنٹ میں زیر غور یہ قانون ان سفارتی مذاکرات سے الگ ایک داخلی قانون سازی کا حصہ ہے۔



