باب المندب کی بندش عالمی توانائی کیلئے بڑا چیلنج بن جائے گی،یمنی سفیر

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے)پاکستان میں یمن کے سفیر محمد مطہر العشبی کا کہنا ہےکہ باب المندب کی بندش کا مطلب عالمی توانائی چیلنج ہے، یمنی حکومت کی ترجیح امن ہے جب کہ حوثیوں کا اپنا ایجنڈا ہے۔
اسلام آباد میں صحافیوں سےگفتگو کرتے ہوئے یمنی سفیر محمد مطہر العشبی کا کہنا تھا کہ یمن اور پاکستان کے انتہائی مثبت تعلقات ہیں، 500 کے قریبی یمنی طلبا پاکستان میں زیر تعلیم ہیں، یمن میں حالات انتہائی ابتر ہیں اور ان چیلنجز میں سب سے بڑا چیلنج یمن کی سالمیت اور خودمختاری کو درپیش ہے۔
یمنی سفیر محمد مطہر العشبی کا کہنا تھاکہ باب المندب ایک عالمی اور اہم ترین روٹ ہے، یہ توانائی، تیل، خوراک کا انٹرنیشنل روٹ ہے، 60 فیصد تیل باب المندب سے گزرتا ہے، باب المندب کی بندش کا مطلب عالمی توانائی چیلنج ہے، یمنی حکومت کی ترجیح امن ہے جب کہ حوثیوں کا اپنا ایجنڈا ہے، حوثی طاقت حاصل کر کے دیگر یمنیوں کو دوسرے درجے کا شہری بنانا چاہتے ہیں، یمنی حکومت مستقل امن چاہتی ہے، حوثی مذاکرات سے انکاری ہیں۔
یمنی سفیر کا کہنا تھاکہ حوثیوں نے موجودہ صورتحال میں تناؤ میں اضافہ کیا ہے، پاکستان ایک اہم ملک ہے وہ بہت کچھ کرسکتا ہے اورکر بھی رہا ہے۔ نجران، جازان اور دیگر چند جنوبی علاقوں پر سعودی عرب سے بین الاقوامی معاہدہ ہوا تھا، معاملات کو مذاکرات اور بین الاقوامی معاہدے کے تحت حل کر لیا گیا تھا۔
ان کا کہنا تھا کہ سعودی عرب یمن کا سب سے اہم اور بڑا شراکت دار ہے، یمنی حکومت ملک میں اپنی موجودگی بحال کرنےکی کوشش کر رہی ہے، ہماری حکومت حوثیوں کے خلاف دیگر گروہوں کو متحد کرنے کی کوشش کررہی ہے، یمن کے پاس تیل اور گیس کے بڑے ذخائر اور دیگر قدرتی وسائل ہیں، حوثیوں کے پاس ہتھیار سمندری راستے سے پہنچ رہے ہیں،حوثیوں کا انحصار ان کے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز پر ہے، امریکا صرف باہر بیٹھ کر صورتحال دیکھ رہا ہے۔



