اہرام مصر کی تعمیر کا راز؟ 5 ہزار سال پرانی دریافت نے سائنسدانوں کو نئی راہ دکھا دی

مصر (ویب ڈیسک) صدیوں سے دنیا کو حیران کرنے والے اہرام مصر کی تعمیر کا راز حل کرنے کی جانب سائنسدانوں نے اہم پیش رفت کی ہے۔ نئی دریافتوں سے عندیہ ملا ہے کہ قدیم مصری ماہرین اہرام کی تعمیر سے کئی صدیاں پہلے ہی جدید تعمیراتی تکنیکوں پر عبور حاصل کر چکے تھے۔
ماہرین آثار قدیمہ نے دریائے نیل کے مشرقی کنارے کے قریب تقریباً 5 ہزار سال پرانے ایک قبرستان نما مقام کی کھدائی کی ہے، جہاں ملنے والے دو مقبروں کا تعمیراتی انداز بعد میں بننے والے اہرام مصر سے مماثلت رکھتا ہے۔
تحقیق کے مطابق ان مقبروں کی دیواریں نچلے حصے میں زیادہ موٹی جبکہ اوپر کی جانب بتدریج تنگ ہوتی گئی ہیں، جس سے عمارت کو زیادہ مضبوطی اور استحکام حاصل ہوتا تھا۔ ماہرین کے مطابق یہی تکنیک بعد میں زینے دار اہرام اور دیگر بڑے اہرام کی تعمیر میں استعمال ہوئی۔
محققین نے قدیم دور میں پتھروں اور لکڑی کو تراشنے کے طریقوں کے شواہد بھی دریافت کیے ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مصری تعمیراتی ماہرین پیچیدہ منصوبوں پر کام کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
یہ مقبرے مصر کے علاقے جبل الطیر (Jabal al-Tayr) میں دریافت ہوئے ہیں، جہاں ہزاروں سال سے تدفین کا سلسلہ جاری رہا ہے۔ ان کا انداز مصر کے قدیم شہر ابیدوس کے شاہی مقبروں سے بھی مماثلت رکھتا ہے۔
ماہرین کے مطابق ابتدائی تجزیے سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ تعمیراتی تجربات بعد میں مصر کے پہلے شاہی خاندان کے دور میں بننے والے اہرام کی بنیاد بنے۔ مصر کا پہلا شاہی خاندان تقریباً 3100 قبل مسیح میں قائم ہوا تھا۔
دوسری جانب ماضی کی ایک اور تحقیق نے بھی اہرام کی تعمیر کے حوالے سے اہم معلومات فراہم کی تھیں، جس میں صحرا کے نیچے دریائے نیل کی ایک قدیم شاخ دریافت کی گئی تھی۔ ماہرین کے مطابق یہ دریا ہزاروں سال قبل 30 سے زائد اہرام کے قریب بہتا تھا۔
تحقیق کے مطابق تقریباً 40 میل طویل اس قدیم آبی راستے کی موجودگی سے یہ وضاحت ملتی ہے کہ مصریوں نے بھاری پتھر کس طرح اہرام کی تعمیر کے مقامات تک پہنچائے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دریا ممکنہ طور پر 4200 سال قبل خشک سالی اور موسمی تبدیلیوں کے باعث ریت میں چھپ گیا۔ اس قدیم دریا کے راستے نے یہ سمجھنے میں بھی مدد دی کہ مصری بادشاہوں نے اہرام مختلف مقامات پر کیوں تعمیر کیے۔
واضح رہے کہ گیزہ کا عظیم ہرم دنیا کے قدیم سات عجائبات میں شامل واحد عجوبہ ہے جو آج بھی موجود ہے۔ اس کی تعمیر میں تقریباً 23 لاکھ پتھر کے بلاکس استعمال ہوئے، جن میں ہر بلاک کا وزن تقریباً ڈھائی سے 15 ٹن تک بتایا جاتا ہے۔



