پی ڈی ایم اے کا الرٹ: 5 اگست تک مون سون بارشوں کا چوتھا اسپیل جاری، فلیش فلڈنگ اور اربن فلڈنگ کا خدشہ برقرار

لاہور(جانوڈاٹ پی کے) پنجاب ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) نے کہا ہے کہ صوبے کے بیشتر دریاؤں میں پانی کا بہاؤ معمول پر آ گیا ہے، تاہم 5 اگست تک مون سون بارشوں کا چوتھا سلسلہ جاری رہنے کے باعث مختلف علاقوں میں فلیش فلڈنگ، اربن فلڈنگ اور لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ برقرار ہے۔
ترجمان پی ڈی ایم اے کے مطابق دریائے چناب کے تمام بیراجوں، دریائے راوی کے تمام ہیڈ ورکس، جبکہ دریائے جہلم اور دریائے ستلج میں پانی کا بہاؤ معمول کے مطابق ہے۔ دریائے سندھ میں صرف کالاباغ کے مقام پر نچلے درجے کا سیلاب ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں پانی کی آمد 3 لاکھ 31 ہزار کیوسک جبکہ اخراج 3 لاکھ 23 ہزار کیوسک ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ تربیلا، چشمہ اور تونسہ کے مقامات پر پانی کی صورتحال معمول پر ہے، جبکہ ڈیرہ غازی خان کی رودکوہیوں میں بھی حالات قابو میں ہیں۔ تاہم نالہ ایک اور نالہ بئیں میں نچلے درجے جبکہ وزیرآباد کے نالہ پلکھو میں درمیانے درجے کے سیلاب کی صورتحال موجود ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے عرفان علی کاٹھیا نے کہا کہ مون سون بارشوں کا چوتھا سلسلہ 5 اگست تک جاری رہنے کی پیشگوئی ہے، جس کے باعث بالائی کیچمنٹ ایریاز میں بارشوں سے مشرقی دریاؤں اور ان سے ملحقہ نالوں میں پانی کے بہاؤ میں اضافہ ہو سکتا ہے، جبکہ برساتی نالوں میں فلیش فلڈنگ کا بھی خدشہ ہے۔
انہوں نے بتایا کہ لاہور، راولپنڈی، گوجرانوالہ، گجرات، سیالکوٹ، فیصل آباد اور ملتان میں اربن فلڈنگ جبکہ مری، گلیات اور دیگر پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ موجود ہے۔
ڈی جی پی ڈی ایم اے نے دریاؤں کے کناروں اور نشیبی علاقوں میں رہنے والے شہریوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرنے اور ضرورت پڑنے پر محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت کی۔ انہوں نے بتایا کہ حکومت پنجاب نے متاثرہ علاقوں میں فلڈ ریلیف کیمپ قائم کر دیے ہیں، جہاں متاثرین کو بنیادی سہولیات، خوراک اور ادویات فراہم کی جائیں گی۔
انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ وہ موسم اور سیلابی صورتحال سے متعلق سرکاری ہدایات پر عمل کریں، دریاؤں، نہروں اور برساتی نالوں کے قریب غیر ضروری آمدورفت اور سیروتفریح سے گریز کریں، جبکہ بچوں کو ہرگز دریاؤں اور برساتی نالوں میں نہانے نہ دیا جائے۔



