سندھ حکومت نے کراچی میں ساڑھے 8 ارب کے پروجیکٹس ایف ڈبلیو او کے سپرد کردیے

کراچی (جانوڈاٹ پی کے) سندھ حکومت نے کراچی میں ساڑھے 8 ارب روپے مالیت کے چار میگا ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے ان کی تعمیر کی ذمہ داری ایف ڈبلیو او  کے سپرد کر دی ہے۔

حکام کے مطابق چار منصوبوں میں سے تین پر اگست 2026 میں باقاعدہ عملی کام شروع کر دیا جائے گا، جن کا مقصد شہر میں ٹریفک کے مسائل میں کمی اور آمدورفت کو بہتر بنانا ہے۔

سپر ہائی وے (M-9) پر ناردرن بائی پاس کے قریب فلائی اوور (انٹرچینج) تعمیر کیا جائے گا، جس پر 2 ارب 30 کروڑ روپے لاگت آئے گی۔ منصوبے میں جناح ایونیو کی بحالی اور بیوٹیفکیشن بھی شامل ہے۔

فلائی اوور موٹر وے کے اوپر تعمیر ہونے کے باعث نیشنل ہائی وے اتھارٹی  سے این او سی حاصل کرنے کے لیے کارروائی شروع کر دی گئی ہے۔

منصوبہ جناح ایونیو، ملیر کینٹ روڈ، حیدرآباد اور سہراب گوٹھ سبزی منڈی کے درمیان سفر کرنے والوں کو سہولت فراہم کرے گا اور طویل یوٹرن کی ضرورت ختم ہو جائے گی۔

الآصف اسکوائر کے سامنے ابوالحسن اصفہانی روڈ کو موٹر وے سے ملانے کے لیے 2 ارب 10 کروڑ روپے کی لاگت سے فلائی اوور تعمیر کیا جائے گا، جس پر بھی اگست میں کام شروع ہوگا۔

ہاکس بے روڈ پر وائی جنکشن سے مچھلی چوک تک 8.5 کلومیٹر سڑک اور مچھلی چوک سے کاکا پیر تک سڑک کی تعمیر و بحالی کا منصوبہ بھی شامل ہے، جس پر 4 ارب 16 کروڑ 20 لاکھ روپے خرچ ہوں گے۔

اس کے علاوہ ملیر ہالٹ انڈر پاس منصوبے پر بھی جلد کام کا آغاز کیا جائے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان منصوبوں کی تکمیل سے کراچی میں ٹریفک کا دباؤ کم ہوگا، سفری سہولتوں میں بہتری آئے گی اور شہریوں کو آمدورفت میں نمایاں آسانی حاصل ہوگی۔

مزید خبریں

Back to top button