190 ملین پاؤنڈ کیس: بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی نے سزا معطلی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کر لیا

اسلام آباد(جانوڈاٹ پی کے) 190 ملین پاؤنڈ کیس میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور بشریٰ بی بی نے سزا معطلی کے لیے سپریم کورٹ سے رجوع کرتے ہوئے اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ چیلنج کر دیا ہے۔

سپریم کورٹ میں دائر اپیلوں میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے نیب کی جانب سے بار بار التوا کے باوجود سزا معطلی کی درخواستیں مسترد کر دیں اور مقدمے کے اہم قانونی نکات کو نظر انداز کیا۔

درخواست گزاروں کا کہنا ہے کہ ہائی کورٹ نے شواہد کا ابتدائی جائزہ لیے بغیر سزا معطلی کی اپیلیں خارج کیں، جو انصاف کے تقاضوں کے منافی ہے۔

اپیل میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ جیل حکام نے وکالت ناموں پر دستخط کرانے میں جان بوجھ کر تاخیر کی، جبکہ بانی پی ٹی آئی کی دائیں آنکھ کی 85 فیصد بینائی متاثر ہو چکی ہے۔ مزید کہا گیا کہ دورانِ قید بشریٰ بی بی کی آنکھ کا آپریشن کیا گیا، تاہم اہل خانہ اور وکلا کو اس بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کو اڈیالہ جیل میں غیر قانونی طور پر کوٹھڑی میں رکھا گیا، جہاں تنہائی کی قید کے باعث انہیں شدید ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ اپیل کے مطابق صحت کے سنگین مسائل کے باوجود سزا معطل نہ کرنا ناانصافی ہے۔

درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا کہ نیب نے بار بار التوا لے کر کارروائی کو غیر ضروری طور پر طول دیا، جس سے انصاف کی فراہمی میں تاخیر ہوئی۔ اپیل میں کہا گیا کہ ٹرائل کے دوران ضمانت مل چکی تھی اور بعض الزامات کو بے بنیاد قرار دیا جا چکا تھا، اس لیے سزا معطلی کی درخواست مسترد کرنا قانونی اصولوں کے خلاف ہے۔

اپیل میں مزید کہا گیا کہ گرفتاری کا طریقۂ کار غیر قانونی تھا اور اس حوالے سے اعلیٰ عدالت پہلے ہی رہائی کا حکم دے چکی تھی۔ درخواست گزاروں کے مطابق احتساب کے نام پر سیاسی بنیادوں پر کارروائی کی گئی اور منصفانہ سماعت کے اصولوں سے انحراف کیا گیا۔

سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے سزا معطل کی جائے اور بانی پی ٹی آئی و بشریٰ بی بی کی رہائی کے احکامات جاری کیے جائیں۔

مزید خبریں

Back to top button