امریکی صدر کے دورہ چین کا امکان
دونوں عالمی رہنماؤں کے درمیان ملاقات کے لیے پس پردہ مشاورت جاری

واشنگٹن (بین الاقوامی ڈیسک): سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ رواں برس ہونے والے ایشیا پیسیفک اکنامک کوآپریشن (اے پی ای سی) سربراہی اجلاس سے قبل چین کا دورہ کر سکتے ہیں یا جنوبی کوریا میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کا امکان ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق یہ اطلاعات ساؤتھ چائنا مارننگ پوسٹ نے اتوار کے روز متعدد سفارتی ذرائع کے حوالے سے دی ہیں، جن کے مطابق ٹرمپ 30 اکتوبر سے یکم نومبر کے درمیان مجوزہ اے پی ای سی اجلاس میں شرکت سے قبل بیجنگ کا دورہ یا سیول میں شی جن پنگ سے ملاقات کا ارادہ رکھتے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکا اور چین کے درمیان محصولات اور تجارتی تنازعات کے باعث عالمی سپلائی چین اور معیشت پر شدید منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک ان اختلافات کو ختم کرنے اور معاشی تعلقات کو دوبارہ معمول پر لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سال کے اختتام سے قبل دونوں عالمی رہنماؤں کے درمیان ملاقات کے لیے پس پردہ مشاورت جاری ہے، تاہم ملاقات کی حتمی تاریخ یا مقام کے حوالے سے فی الحال کوئی سرکاری اعلان نہیں کیا گیا۔
ڈونلڈ ٹرمپ اس سے قبل یہ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ چین سمیت دنیا کے تمام ممالک سے درآمد کی جانے والی اشیاء پر بنیادی طور پر 10 فیصد ٹیکس عائد کرنا چاہتے ہیں۔ چین کے حوالے سے انہوں نے 55 فیصد تک ٹیکس کی تجویز دی ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات سے امریکی صنعت کو تحفظ ملے گا، جبکہ ناقدین کا کہنا ہے کہ اس پالیسی سے مہنگائی میں اضافہ اور صارفین پر بوجھ بڑھے گا۔
ذرائع کے مطابق ٹرمپ نے امریکا اور چین کے درمیان کسی ممکنہ تجارتی معاہدے کے لیے 12 اگست کی ڈیڈ لائن بھی تجویز کی ہے۔
ادھر چینی وزیر تجارت وانگ وینتاؤ نے حالیہ بیان میں کہا ہے کہ چین امریکا کے ساتھ اقتصادی تعلقات کو دوبارہ مستحکم بنیادوں پر استوار کرنے کا خواہاں ہے اور موجودہ تجارتی تناؤ کو ختم کرنے میں سنجیدہ ہے۔
یاد رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان آخری اعلیٰ سطحی ملاقات رواں ماہ 11 جولائی کو ملائیشیا میں ہوئی تھی، جس میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اور چینی وزیر خارجہ وانگ ای نے شرکت کی۔ اس ملاقات کو "مثبت اور تعمیری” قرار دیا گیا تھا۔
مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ چین نے سابق صدر ٹرمپ کو باقاعدہ دعوت دی ہے کہ وہ صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں، اور دونوں رہنما اس ملاقات کے خواہاں ہیں۔
سیاسی و سفارتی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر یہ ملاقات ہوتی ہے تو یہ نہ صرف دوطرفہ تعلقات کی بحالی کی جانب ایک اہم قدم ہوگی، بلکہ عالمی سطح پر تجارتی ماحول پر بھی مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔



