نوجوانوں کے جرائم پر والدین بھی جوابدہ ہوں گے، یوتھ جسٹس نظام میں اصلاحات کی تجویز

لندن(ویب ڈیسک) نوجوانوں کی جانب سے کیے جانے والے جرائم میں کمی لانے کے لیے برطانوی حکومت نے یوتھ جسٹس سسٹم میں اصلاحات کا منصوبہ بنا لیا، مجوزہ اصلاحات کے تحت بچوں کے جرائم کی صورت میں والدین کو بھی مختلف پابندیوں اور اقدامات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
یوتھ جسٹس منسٹر جیک رچرڈ نے کہا ہے کہ والدین کو متناسب انداز میں جوابدہ بنایا جائے گا تاکہ وہ معاشرے کو محفوظ بنانے میں اپنا کردار مؤثر انداز میں ادا کریں۔
یہ بیان مئی میں پیرنٹنگ آرڈرز کو مزید مضبوط اور وسیع کرنے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے۔ موجودہ نظام کے تحت ایسے احکامات والدین یا سرپرستوں کو بچوں کے رویے سے نمٹنے کے لیے کونسلنگ سیشنز میں شرکت کا پابند بنا سکتے ہیں، جبکہ حکم کی خلاف ورزی پر جرمانہ بھی عائد کیا جا سکتا ہے۔
جیک رچرڈ کے مطابق مجوزہ نظام میں والدین کو قید کی سزا صرف انتہائی سنگین معاملات میں دی جا سکے گی، جبکہ اس حوالے سے حتمی فیصلہ عدالت کرے گی۔
دوسری جانب اصلاحات کے ناقدین کا کہنا ہے کہ والدین کو سزا دینے کے بجائے انہیں رضاکارانہ طور پر بچوں کی اصلاح اور معاونت کے عمل میں شامل کرنا زیادہ مؤثر ہوسکتا ہے۔
الائنس فار یوتھ جسٹس کے چیف ایگزیکٹو جیس مولن نے سوال اٹھایا کہ اگر والدین کو قید کیا گیا تو وہ اپنے بچوں کو ضروری مدد اور معاونت کیسے فراہم کر سکیں گے۔



