اے آئی کو کھلی چھٹی ملی تو کیا ہوگا؟ ماہرین نے بڑے خطرے سے خبردار کردیا

اسلام آباد (ویب ڈیسک) مصنوعی ذہانت (اے آئی) کی تیز رفتار ترقی کے ساتھ اس کے محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال، مؤثر نگرانی اور واضح حفاظتی اصولوں کی ضرورت پر بحث بھی بڑھ رہی ہے۔

پاکستان کی معروف ٹیکنالوجی کمپنی کے سی ای او آصف پیر نے کہا ہے کہ اے آئی کی ترقی روکنے کے بجائے اسے ذمہ دارانہ انداز میں اپنانا اور ایسے حفاظتی اصول وضع کرنا ضروری ہے جو اس ٹیکنالوجی کو انسانی کنٹرول میں رکھیں۔

نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے آصف پیر نے کہا کہ اے آئی موجودہ صدی کی بڑی اختراعات میں شامل ہے، اس لیے اس پر مکمل پابندی کے بجائے اس کے محفوظ اور ذمہ دارانہ استعمال پر توجہ دینی چاہیے۔ ان کے مطابق دنیا بھر میں ٹیکنالوجی کے ماہرین بھی اے آئی کو انسانیت کے فائدے اور انسانی نگرانی کے تحت استعمال کرنے پر زور دے رہے ہیں۔

آصف پیر نے کہا کہ اے آئی سے معلومات، جوابات اور تحقیق حاصل کی جاسکتی ہے، تاہم ان معلومات کی بنیاد پر کیے جانے والے اقدامات اور ان کے نتائج کی ذمہ داری انسانوں پر ہی عائد ہونی چاہیے۔ ان کے مطابق اگر اے آئی ایجنٹس کو مکمل خودمختاری دے دی جائے اور وہ انسانی نگرانی کے بغیر فیصلے اور اقدامات کرنے لگیں تو ایسے نظام کو ذمہ دار اے آئی قرار دینا مشکل ہوگا۔

انہوں نے ذمہ دار اے آئی کے لیے تین بنیادی اصول بیان کرتے ہوئے کہا کہ اے آئی ایجنٹس انسانی کنٹرول میں رہیں، انسانی مقاصد سے ہم آہنگ ہوں اور ان کی سرگرمیوں کو واضح حفاظتی حدود تک محدود رکھا جائے۔

ٹیکنالوجی ماہر کے مطابق اے آئی کی ترقی کی رفتار کے مقابلے میں اس کی نگرانی، ضابطہ کاری اور حفاظتی نظام وضع کرنے کا عمل پیچھے رہ گیا ہے۔ اگر اے آئی کسی مرحلے پر انسانی کنٹرول سے باہر ہوجائے تو اسے قابو میں رکھنے کے لیے مؤثر نظام پہلے سے موجود ہونا چاہیے۔

آصف پیر نے تجویز دی کہ اے آئی ماڈلز اور ان سے تیار کیے جانے والے ٹولز میں حفاظتی اصول ابتدا ہی سے شامل کیے جائیں۔ ان کے مطابق اوپن سورس یا بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے اے آئی ٹولز استعمال کرتے ہوئے بھی اخلاقی اصول اور حفاظتی اقدامات نظام کا لازمی حصہ ہونے چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ اے آئی اس وقت تیز رفتار تجرباتی اور ترقیاتی مرحلے میں ہے، جبکہ صحت، تحقیق، تعلیم، دفاع اور سائبر سیکیورٹی سمیت مختلف شعبوں میں اس کے فوائد سامنے آ رہے ہیں۔

آصف پیر نے زور دیا کہ اے آئی کے ذمہ دارانہ استعمال کے لیے عالمی سطح پر مشترکہ اصول اور ضابطۂ کار تشکیل دینے پر بات چیت ضروری ہے، کیونکہ یہ ٹیکنالوجی ایک عالمی ایکو سسٹم کی شکل اختیار کرچکی ہے۔

ان کے مطابق اے آئی ایجنٹس کو واضح اجازتوں اور حدود کے ساتھ کام کرنا چاہیے تاکہ انہیں معلوم ہو کہ وہ کون سے اقدامات کرسکتے ہیں اور کن کاموں کی اجازت نہیں۔ انسانی نگرانی، انسانی مقاصد سے ہم آہنگی اور واضح حفاظتی حدود کو اے آئی کے مستقبل کے استعمال کا بنیادی حصہ بنانا ضروری ہے۔

مزید خبریں

Back to top button