ٹھٹھہ: نصیر واہ اور کھانٹی واہ میں پانی کی شدید قلت، آبادگاروں کا احتجاج، فوری فراہمی کا مطالبہ

ٹھٹھہ (جاوید لطیف میمن\جانوڈاٹ پی کے) نصیر واہ اور کھانٹی واہ کے آبادگاروں اور کسانوں نے نہروں میں پانی کی شدید قلت کے خلاف ٹھٹھہ پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور حکومت سندھ و محکمہ آبپاشی کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔

مظاہرین نے "پانی نہیں کیوں بھلا، کربلا” کے نعرے لگاتے ہوئے مطالبہ کیا کہ نہروں میں فوری طور پر پانی چھوڑا جائے تاکہ فصلوں اور زرعی زمینوں کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔

احتجاج کے دوران کرم علی چاڑو، مضری چاڑو، یار محمد چاڑو، حاجی چاڑو، لطیف مڑائی، مجید مڑائی، محمد حنیف اور دیگر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نصیر واہ اور کھانٹی واہ میں کئی ماہ سے پانی کی فراہمی مکمل طور پر بند ہے، جس کے باعث فصلیں سوکھ کر تباہ ہو رہی ہیں اور زرعی اراضی بنجر ہوتی جا رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ آبکلاں کے موسم میں بھی پانی نہ ہونے کی وجہ سے دھان (چاول) کی کاشت ممکن نہ ہو سکی، جس سے کسانوں کو لاکھوں روپے کے مالی نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

مظاہرین نے الزام عائد کیا کہ متعدد شکایات کے باوجود متعلقہ حکام نے مسئلے کے حل کے لیے کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ نہریں خشک ہونے سے نہ صرف زرعی بحران پیدا ہوا ہے بلکہ پینے کے پانی کی شدید قلت بھی جنم لے چکی ہے، جبکہ ساحلی پٹی میں زیرِ زمین پانی پہلے ہی کھارا ہو چکا ہے۔

متاثرہ آبادگاروں نے حکومت سندھ اور محکمہ آبپاشی سے مطالبہ کیا کہ نصیر واہ اور کھانٹی واہ میں فوری طور پر پانی کی فراہمی بحال کی جائے تاکہ باقی ماندہ زرعی زمینیں آباد رہ سکیں اور کسانوں کو مزید معاشی نقصان سے بچایا جا سکے۔

مظاہرین نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات پر فوری عمل درآمد نہ کیا گیا تو احتجاج کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے گا۔

مزید خبریں

Back to top button