سندھ اسمبلی میں معاملہ اٹھتے ہی محکمہ آبپاشی متحرک، رن شاخ سے غیرقانونی رکاوٹیں ختم، ٹیل تک پانی پہنچانے کی یقین دہانی

تھرپارکر(رپورٹ؛ میندھرو کاجھروی/جانو ڈاٹ پی کے)سندھ اسمبلی میں ایم پی اے سریندر ولاسائی کی جانب سے تھرپارکر کے بیراجی علاقوں میں پانی کی شدید قلت کا معاملہ اٹھائے جانے کے بعد محکمہ آبپاشی نے رن شاخ پر اچانک کارروائیاں کرتے ہوئے پانی کی روانی میں رکاوٹ بننے والے غیرقانونی بند، دکے اور دیگر مصنوعی رکاوٹیں مسمار کر دیں۔
محکمہ آبپاشی کے حکام کے مطابق رن شاخ کے دیگر حصوں میں بھی آپریشن جاری رکھا جائے گا تاکہ پانی کی ترسیل میں حائل تمام غیرقانونی رکاوٹوں کا خاتمہ یقینی بنایا جا سکے۔ حکام نے آبادگاروں کو یقین دلایا کہ ان شاء اللہ آئندہ دو روز کے اندر رن شاخ کے آخری سرے (ٹیل) تک پانی پہنچا دیا جائے گا۔
دوسری جانب بلاول ہاؤس کے انچارج میڈیا سیل اور سندھ اسمبلی کے رکن سریندر ولاسائی سے ولاسائی ہاؤس کلوئی میں تھرپارکر اور بدین سے آئے ہوئے مختلف وفود نے ملاقات کی، جس میں عوام کو درپیش مسائل، ترقیاتی منصوبوں اور فلاحی سرگرمیوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات کے دوران رن شاخ کے ٹیل کے آبادگاروں نے پانی کی شدید قلت اور مبینہ پانی چوری کے باعث زرعی زمینوں کو پہنچنے والے نقصانات سے آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پانی کی کمی سے فصلیں متاثر ہو رہی ہیں اور انہیں شدید معاشی و مالی مشکلات کا سامنا ہے۔
ایم پی اے سریندر ولاسائی نے آبادگاروں کو یقین دہانی کرائی کہ پانی کی قلت، پانی چوری اور دیگر عوامی مسائل کے حل کے لیے متعلقہ حکام سے فوری رابطہ کرکے مؤثر اقدامات کیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مشکلات کو ہرگز نظرانداز نہیں کیا جائے گا اور ان کے مستقل حل کے لیے ہر ممکن کوشش کی جائے گی۔



